انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 141

۱۴ أَ فَلا یَرَوْنَ أَنّا نَأْتِی الاْ َرْضَ نَنْقُصُها مِنْ أَطْرافِها أَ فَهُمُ الْغالِبُونَ(الا نبیاء: ۴۵) یعنی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو روز بروز کناروں کی طرف سے کم کرتے آتے ہیں پس کیا اس بات کے باوجودوہ خیال کرتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائین گے یعنی جبکہ روز بروز اسلام ترقی کر رہا ہے اور وہ کم ہو رہے ہیں تو پھر کیونکر خیال کر سکتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائینگے پس اسی سنت کے ماتحت مسیح موعود کی جماعت کا معاملہ ہے کہ ہر روز وہ ترقی کر رہی ہے اور ایک شخص سے ترقی کر کے ہر علاقہ اور ہر ملک میں اسکے ماننے والے پیدا ہو گئے ہیں اور یہ ترقی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بہت جلد اس جماعت کے ہاتھوں سے اسلام کو دیگر ادیان پر غلبہ ہو جائے گا انشاءاللہ تعالیٰ۔پس مسیح موعود کی اندرونی اصلاح کا یہ کام ہے کہ آپ نے ایک زبردست جماعت قائم کردی ہے جو تقویٰ اور طہارت میں ایک نمونہ ہے اور دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ جہاں کوئی شخص احمدی ہو تا ہے اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے اور ان کے اند رایسی اصلاح پیدا ہو جاتی ہے کہ اسکی پہلی زندگی کا اگر نئی زندگی سے مقابلہ کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور ہزاروں ہیں جو اخلاص میں ترقی کرتے کرتے صحابہ ؓکا نمونہ ہو گئے ہیں اور دین کے لئے اپنی جان او راپنامال اور اپنا وطن اور اپنے عزیزو رشتے داروں کی قربانی انکی نظروں میں حقیر ہے دنیا کے لوگوں کی نظروں میں وہ غریب اور کمزور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور انکو ایسی عظمت حاصل ہے کہ انکو دکھ دینے والے بھی سکھ نہیں پاتے اور جو شخص انکو ستاتا ہے وہ ضرور ذلت و رسوائی کا منہ دیتا ہے یاسنت اللہ کے ماتحت اگر ایک قلیل حصہ اس جماعت کا بھی کمزور ہو اور حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم سے فائدہ نہ اٹھا سکا ہو تو وہ اور بات ہے اور کسی حصہ کا کمزور ہو اس سلسلہ کی صداقت کے منافی نہیں کیونکہ کمزور آدمی ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں حتّٰی کہ صحابہ میں بھی تھے اور آنحضرت ﷺ کی زندگی کے آخری ایام تک ایک گروہ منافقین کا موجود تھاپس ایک قلیل گروہ کو چھوڑ کر اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کے خاص فضل ہیں۔اور جناب خیال کر سکتے ہیں کہ جو لوگ روزانہ تازہ بتازه نشانات کو دیکھیں گے اور اللہ تعالی ٰکی قدرتوں کا معائنہ ایسا کریں گے کہ گویا خداسامنے نظر آگیا انکا ایمان کیسا مضبوط ہو گا اور و ہ اخلاص میں کس قدر ترقی کر جائیں گے۔ایک چور بھی پولیس مین کی موجودگی میں چوری نہیں کر تا پس جن لوگوں کو علم ہو جائے اور اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرتوں کا معائنہ کرلیں وہ کب گناہوں کے قریب جاسکتے ہیں اور ان کے دلوں میں دنیا کی حرص و آز کب باقی رہ سکتی ہے۔ان کے