انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 130

۱۳۰ ہے جو ہزاروں طریقوں سے دنیا کو مسیحی مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کانے سے مراد یہی ہے کہ دین کی آنکھ اس کی بند ہوگی صرف دنیا میں مشغول ہو گا جیسا کہ ظاہر بھی ہے اور یہ تاویلات بعیدہ نہیں ہیں بلکہ احادیث اسکی تصدیق کرتی ہیں جیسا کہ ابن ِصیاد کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ اس کے پاس گئے اور حضرت عمرؓنے اجازت طلب فرمائی کہ اسے قتل کردیں اور قسم کھائی کہ یہی دجال ہے حالانکہ وہ کانا نہ تھا اور دوسری علامات بھی اس میں پانی نہ جاتی تھیں اور آنحضرت ﷺ نے بھی گو آپ کو قتل سے روک دیا لیکن قطعی طور پر اس کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺبھی اور حضرت عمرؓ بھی اس بات کو قرین قیاس خیال فرماتے تھے کہ وہ علامات جو دجال کی بابت بیان کی گئی ہیں ممکن ہے کہ اپنے ظاہری معنوں کے علاوہ کسی اور رنگ میں پوری ہوں ورنہ چاہئے تھاکہ آپؐ حضرت عمرؓ سے فرماتے کہ تم اسے دجال کیونکر کہتے ہو حالانکہ نہ یہ کانا ہے نہ اس کے پاس گدھا ہے پھر یہ مدینہ میں رہتا ہے مگر آپ کا حضرت عمرؓکے قول کا پوری طرح ر دّنہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آپ دجال کے معاملہ میں تاویل کی گنجائش کے معتقد تھے۔یہ امر بھی خاص طور پر قابل غور ہے کہ مسیح اور دجال کے متعلق جس قدر اخبار ہیں واسب بطور پیشگوئیوں کے ہیں اور اخبار غیبیہ ہمیشہ تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ میں کڑے سونے کے دیکھے لیکن ان کی تعبیریہ فرمائی کہ دو مدعیان کاذب خروج کریں گے اب جو شخص زور دے کہ میں تو اس تعبیر کو نہیں مانتا وہ غلطی کرتا ہے پس مسیح موعود اور دجال کی نسبت جس قدر اخبار ہیں محتاج تعبیر ہیں اور اپنے وقت پر ظاہر ہو کر ہی ان کی صداقت کا پتہ لگ سکتا ہے چنانچہ جب معاملہ کھل گیا تو اب بات صاف ہو گئی اور ہر ایک شخص جو ذرا بھی تدبر کرے سمجھ سکتا ہے کہ دجال سے مراد در حقیقت پادری لوگ ہی ہیں جو مسیح کی خدائی منواتے پھر رہے ہیں اور ان کے مارنے سے مراد ان کے مکائد کا دفعیہ ہے چنانچہ حديث یکسر الصلیب بھی اسی بات پر شاہد ہے کہ مسیح موعودمسیحی دین کو دلائل و براہین سے ایسار دّکرے گا کہ آز صلیب ٹوٹ جاۓ گی لیکن اکثر لوگ اسلام قبول کریں گے اور مسیحیت کا زور ٹوٹ جائے گا۔ورنہ یہ خیال نہایت ہی لغو ہو گا کہ حضرت مسیح آکر لکڑیاں توڑتے پھریں گے یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔مذکورہ بالا دونوں شبہات کے دور ہونے کے بعد یعنی بعد اثبات وفاتِ مسیح و خروجِ دجال بموجب خبر آنحضرتﷺ مسیح موعودکااسی امت میں سے ہونا ضروری ہے اور اس کا زمانہ یہی