انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 125

۱۲۵ اس کے معنے کئے جائیں اور جن لوگوں نے اس میں تقدیم و تاخیر کو جائز رکھا ہے انہوں نے اس لطیفہ کو جو ابھی مذکور ہوا ہے نہیں سمجھا۔اسی طرح سورہ جمعہ میں ایک آیت ہے کہ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاﰳ انْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىٕمًاؕ-قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (الجمعه : ۱۲) اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ جو لفظ قرآن کریم میں کسی ترتیب سے بیان کئے جائیں وہی ترتیب اس سے مراد لی جائے کیونکہ اس آیت میں ایک جگہ تو تجارت کولهوسے پہلے بیان کیا ہے اور دوسری جگہ لهو کو تجارت سے پہلے بیان کیا ہے جس سے معلوم ہواکہ ترتیب مراد نہیں ہے ورنہ ایک ہی آیت میں یہ دو الفاظ دو طرح کیوں بیان کئے جاتے ؟ اور کیوں ایک دفعہ ایک لفظ کو اور دوسری دفعہ دوسرے لفظ کو پہلے رکھا جاتا؟ مگر میں جہاں تک اس آیت پر غور کر تا ہوں مجھے یہ آیت بر خلاف ان لوگوں کے قیاس کے جو اس سے تقدیم و تاخیر ثابت کرتے ہیں اس بات پر حجت معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ جہاں رکھا گیا ہے اسی جگہ مناسب تھا اور دو سری جگہ اس کا رکھنا جائز نہیں اور بجائے ترتیب کلمات کے خلاف ہونے کے یہ اس کی موید ہے اور وہ اس طرح کہ آیت کریمہ میں دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک تو یہ کہ جب تجارت و لھو کو دیکھتے ہیں تو تجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے وہ لهو و تجارت سے بہتر ہے پہلی صورت میں تو تجارت کولهو سے پہلے بیان کیا ہے اور دوسری صورت میں امر کو تجارت سے پہلے بیان کیا ہے اور جہاں تک میں غور کرتا ہوں مجھے اس اختلاف میں قرآن کریم کی شان عظیم نظر آتی ہے وہ اس طرح کہ پہلی صورت میں یہ مذکور ہے کہ لوگ تجارت اورلهو کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں اور رسول اور دین کی طرف کم خیال کرتے ہیں اب یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں یہ بتانا مد نظر ہے کہ انسان دنیاوی فوائد اور اپنے نفس کے آرام کو دین اور اللہ تعالے کے احکام پر عام طور پر مقدم کرلیتا ہے اب یہ دیکھنا چاہئے کہ دین سے غافل کر دینے والی جو دو چیزیں بیان کی گئی ہیں یعنی تجارت او رلهو ان میں سے کونسی دین سے زياده غافل کردینے والی ہے۔اسی کا پہلے ذکر کرنااحسنِ كلام کے لئے ضروری ہو گا اور یہ بات ظاہر ہے کہ تجارت لهوسے زیاده غافل کرنے والی ہے کیونکہ تجارت میں انسان کو فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لھو میں صرف ایک غفلت ہی غفلت ہوتی ہے ورنہ فائدہ کچھ نہیں پس تجارت زیاده موجب ہے دین سے غفلت کی بہ نسبت لهو کے۔کہ وہ بھی موجب غفلت تو ہے لیکن تجارت سے۔