انوارالعلوم (جلد 2) — Page 119
۱۱۹ ان راتوں میں سے پہلی ہے جن میں چاند کو گہن لگتاہے اور درمیانے دن سے مراد اٹھائیسویں تاریخ ہے جو ان تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ ہے جن میں سورج کو گہن لگتا ہے۔اور ان تاریخوں میں چاند اور سورج کو گہن لگ چکا ہے جس سے ثابت ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں اس مہدی کا ظہور ہوا جس نے یہ مسیح کہلانا ہے۔اسی طرح اس زمانہ کی ایک یہ علامت آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ لیترکن القلاص فلا یسعی علیھا (مسلم کتاب الایمان باب بیان نزول عینی ابن مریم )یعنی اونٹ چھوڑ دئیےجائیں گے اور کوئی ان پر سوار نہ ہو گا اور قرآن شریف میں بھی ہے کہ و اذا العشار عطلت(التکویر : ۵ )یعنی دس ماہ کی گا بھن اونٹنی کی بھی قدر نہ رہے گی اور وہ کھلی چھوڑ دی جائے گی چنانچہ اس زمانہ میں ریل کی سواری کی وجہ سے ان جانوروں کی وہ ضرورت نہیں رہی جو پہلے تھی اوراب تو مدینہ منورہ تک ریل پہنچ چکی ہے اور مکہ مکرمہ تک لے جانے کی تجویز ہو رہی ہے پس اس علامت نے بھی اپنے وقت پر پورا ہو کر مسیح موعود کے زمانہ کی گو اہی دیدی ہے اسی طرح اخبارات اور کتب کی اشاعت اور اریگیشن کی ترقی کی خبر دی گئی تھی جیسے کہ فرمایا واذاالصحف نشرت(التکویر ۱۱) اورواذاالبحار سجرت (التکویر : ۷) اور آجکل مطابع کی ایجاد سے صحف و اخبار کی جوکثرت ہے اور ریلوں کی وجہ سے ان کی جس قدر اشاعت ہے وہ محتاج تصدیق نہیں پھر دریاؤں کے پانی کاٹ کاٹ کر جس طرح نہریں نکالی گئی ہیں اور جس طرح دریاؤں کے پانیوں کو سکھادیا گیاہے وہ بھی ایک بیّن امر ہے جس کے لئے کسی مزید شہادت کی ضرورت نہیں اسی طرح اور بہت سی علامات ہیں جو مسیح موعود کے زمانہ اور قرب قیامت کے لئے نشان قرار دی گئی ہیں اور وہ پوری ہوچکی ہیں پس قرآن کریم اور احادیث کی شہادت سے صاف ثابت ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے بلکہ بتیس (۳۲) سال سے وہ زمانہ شروع ہے کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آنا چاہئے اور اب تو تیرھویں صدی ختم ہو کر چودھویں صدی سے بھی تیسرا حصہ گزر چکا ہے۔پس جبکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے اور اس کی بعثت کا زمانہ ہے بھی صدی کا سر۔تو حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ قادیانی کا دعویٰ قبول نہ کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی عذر نہیں رہتا کیونکہ آپ کے سوا اس وقت دنیا کے پردہ پر کسی انسان نے مسیح موعود ؑہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مجددیت کامدعی ہے اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو مرزا صاحب کادعویٰ سچا تسلیم کیا جائے یا اسلام کی