انوارالعلوم (جلد 2) — Page 112
۱۱۲ غرض کہ الہام الہٰی کے دروازہ کا کھلا رہنا یک ایسا معیار ہے کہ جس کے سامنے کوئی غیرمذہب کا پیرو نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اسلام اس میدان میں اکیلاہی شہسوار ہے۔کسی مذہب کو جھوٹا دعویٰ کرنے کی بھی طاقت نہیں کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ مقابلہ میں پول کھل جائے گا۔آج تک ہزاروں آدمی اسلام میں اس شرف سے مشرف ہو چکے ہیں اور کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں الہام الہٰى کے مدعی مسلمانوں میں موجود نہ ہوں بلکہ ہر ایک گاؤں جس میں مسلمانوں کی آبادی ہے اس کے قبرستان میں کوئی نہ کو ئی قبر کی ایسے بزرگ یا ولی کی نظر آئے گی جوالہام الہٰی کامدعی تھا اور جسے اللہ تعالی ٰکی طرف سے بطور شہادت امور غیبیہ سے اطلاع دی جاتی تھی جس طرح اسلام کی ظاہری شریعت کے چار امام ہیں ای طرح روحانی علوم کے بھی چار امام و مشہورہیں۔یعنی سید عبدالقادر جیلانی حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی ‘حضرت بہاؤ الدین صاحب نقشبندی ، حضرت معین الدین صاحب چشتی رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد ہر ایک سلسلہ میں سینکڑوں خلفاء گزرے ہیں اور ان چار بزرگوں کے علاوہ اور بہت سے ایسے بزرگ گزرے ہیں جنہیں قرب الہٰی حاصل تھا اور کلام الہٰی سے مشرف تھے اور اگر ان لوگوں کو شمار کیا جائے تو ہزاروں سے گزر کر لاکھوں تک ان کی تعداد پہنچ جائے اور یہ لوگ ایسے تھے کہ ان کی زندگیاں ان کے زمانہ کے لوگوں کے لئے اسلام کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت تھیں پر نہ صرف آیات قرآنیہ اوراحادیث نبویہ سے ہر زمانہ میں ایسے لوگوں کا ہونا ثابت ہے بلکہ واقعات بھی اس امر کے شاہد ہیں کہ اسلام کبھی ایسے پاک نفسوں سے خالی نہیں رہا جنہوں نے روحانی ترقیات کے اعلیٰ مدارج پر ترقی حاصل کر کے اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس بات سے تو کسی انسان کو بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ جو درخت پھل نہیں دیتا اس میں اور دوسرے بے ثمردر ختوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ جب پھل آنا بند ہو گیا تو اس کی لکڑی صرف جلانے کے کام آسکتی ہے پس جو مذہب ایسا ہے کہ اسے تازہ پھل نہیں لگتے بلکہ یہی کہا جا تا ہے کہ کسی زمانہ میں اسے پھل لگتا تھا وہ اب ثمردار درختوں میں رکھے جانے کے قابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کہ آگ کی نذر کیا جائے اور کسی مذہب کا پھل یہی ہے کہ وہ ایسے کامل انسان پیداکرے کہ جو اللہ تعالی ٰکے ساتھ کا تعلق رکھنے والے ہوں اور ان کی نفسانی خواہشات مرگئی ہوں اور اپنے ساتھ ایسے بیّن نشان رکھتے ہوں کہ ان کا وجود دوسروں کے لئے اس مذہب کی صداقت کا نشان ہو پس اگر دوسرے مذاہب اس قسم کے آدی پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو اس بات