انوارالعلوم (جلد 2) — Page 107
۱۰۷ جانتے ہیں کہ اس سے ہماری سلامتی مشکل ہے پس چونکہ اسلام اپنی سادگی اور حسن کے باعث ایسا دلکش ہے کہ اگر کوئی شخص تعصب سے خالی ہو کر اس کا مطالعہ کرے تو اس کے دام میں آئے بغیرنہیں رہ سکتا اس لئے سب مذ اہب اس کے مقابلہ میں ایک ہو جاتے ہیں مگران بیرونی دشمنوں سے اسلام کو کبھی اس قدر نقصان نہیں پہنچا جس قدر کہ اسے اس زمانہ میں اندرونی دشمنوں سے پہنچا ہے۔کسی شاعر نے کیا کیا ہے کہ من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد دشمنان بیرونی نے تیرہ سو سال تک متواتر اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا لیکن اب تک وہ کامیاب نہ ہو سکے مگر ایک صدی دو صدی کے اندر گھر کے آدمیوں نے اس کی جڑوں کو بالکل کھوکھلا کر دیا کچھ تو علماء نے ہمت کی کہ اسلام کے زریں اصول کو ایسا بھونڈا اور بھیانک د کھانا شروع کیا کہ آئے ہوئے لوگ بھی رک گئے قرآن شریف کی پاک تعلیم میں اسرائیلی قصے داخل کر کے اور انسانی خیالات ملا کر ایسی تفاسیر کرنی شروع کر دیں کہ قرآن کریم کا اصل حسن بھی ان کے نیچے دب گیا۔جس طرح ایک عمدہ ہیرا اس وقت تک کہ اسے ردی ماده کاٹ کر صاف نہ کیا جائے اپنی جلا نہیں دیتا۔اسی طرح قرآن کریم کو ایسی ایسی خود ساختہ تفاسیر کے پردوں میں لپیٹ دیا ہے کہ ناواقف آدمی اس کے حسن سے ہی انکار کر دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ جو تصویر اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے وہ قرآن کریم کی نہیں بلکہ دوسری اقوام کے قصوں اور دکانوں کا رنگ چڑھا کر اسے اور کااور ہی بنادیا گیا ہے اس طرح جو نقصان علماۓ خلف نے اسلام کو پہنچایا ہے اس سے بھی زیادہ وہ نقصان ہے جو علماء ،صوفياء، امراء اور عوام الناس کی متفقہ کوشش سے اسلام کو پہنچا ہے لیکن ان کی بد عملی کی وجہ سے مسلمان اسلام کی دشمنی میں دشمنوں سے بھی زیا دہ ثابت ہوئے ہیں۔اسلام اپنی خوبیوں سے ہر ایسے شخص کو جو تعصب سے خالی ہو کر اس پر غور کرے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور باوجود ان رکیک تاویلات کے اور ان اجنبی قصوں کے جو اس کی تفاسیر میں بھردیئے گئے ہیں بہت سے لوگوں کو اس کی حقیقت پر آگاہی ہو جاتی ہے۔اور وہ اسلام میں داخل ہونا پسند کرتے ہیں لیکن مسلمان ان کے لئے روک ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہیں کہ جن کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش کریں اور اس طرح مسلمانوں سے جو نقصان اسلام کو پہنچ رہا ہے وہ غیروں سے نہیں پہنچتا۔