انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 102

۱۰۲ حسنہ کا پلہ بھاری ہو گیا وہ تو اعلیٰ درجہ کی زندگی پائے گا اور جس کے اعمال حسنہ کاپلہ ہلکا ہؤ اور اس کی صفات بہیمیہ پر غالب نہ آسکا تو وہ ہاویہ میں گرے گا اور ہاویہ سے مراد عمیق گڑھا ہے جو اپنےعمق میں نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے۔اسی طرح اس آیت میں اشارہ ہے کہ ولو شئنا لرفعنہ بها ولكنہ اخلد الى الارض (الاعراف : ۱۷۷) یعنی ہم چاہے تو اس کو اپنی آیات کے ذریعہ بلند کردیتےلیکن اس نے زمین کے ساتھ ایسا تعلق پکڑا کہ اسے چھوڑانہیں پوراحادیث میں جنت کو بلندی پر اور دوزخ کو نیچے بتا کر بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب اعمال حسنہ بھاری ہوں تو انسان کی غلطیوں کا وزن کچھ نہیں رہتا اور انسان باوجود اپنی بہیمیت کے بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کی نیکیاں اس کی بد یوں پر غالب آجاتی ہیں اور ان کو کالعدم کردیتی ہیں اور انسان بالاآخر جنت کو جو بلندی پر ہے حاصل کر لیتا ہے اور جس کے اعمال حسنہ کم ہوں اور انسان کو اوپر نہ اٹھا سکیں تو ان کا پلہ بوجہ ہلکا ہونے کے بلند ہو جائے گا اور نفس انسانی و الا پلہ علی قد ر ذنوب نیچے نیچے ہوتا جائے گا اور جہنم میں( جو نیچے ہوگی) جگہ پائے گا۔اس مسئلہ سے جنت و دوزخ کے مراتب کا بھی پتہ چلتا ہے کیونکہ جس قدر کسی کے اعمال حسنہ بوجھل ہوں گے اسی قدروہ اوپر اوپر اٹھتا چلا جائے گا اور اعلی ٰمدارج پائے گا اور جن لوگوں کی بد یاں زیادہ ہوں گی وہ نیچے زیادہ گر جائیں گے اور جہنم میں جائیں گے حتی کہ جن کی بدیوں کا پلہ بہت ہی بھاری ہو گا انکے اعمال حسنہ کا پلہ بہت اونچا چڑھ جائے گا اور اس کے مقابلہ میں نفس کالم اسفل السافلین میں گر جائیگا۔غرض کہ مذکورہ بالا حدیث میں اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ اللہ تعالے کی تسبیح ، تحمید اور عظمت کااقرار ایا مثمر ثمرات نافع ہے کہ انسان کا ترازوئےعمل اس کے بوجھ سے بہت جھک جاتا ہے اوراس کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ فرمائی کہ حبيبتان الى الرحمن یہ کلمات اس لئےزیادہ ثواب کا موجب ہوتے ہیں کہ حبيبتان إلى الرحمن رحمٰن کو پسند ہیں نادان انسان تو یہ ہےخیال کرتا ہو گا کہ لفظ رحمٰن صرف قافیہ بندی کے لئے استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ عظیم الشان انسان پرجس کا کوئی کلام لغو اور فضول میں ایک ظلم عظیم ہو گار حمٰن کا لفظ اس حدیث میں قافیہ بندی کے لئے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں حبيبتان الى الرحمن فرما کرآنحضرت ﷺ نے اس ثقل کی وجہ بیان فرما دی ہے جو کلمات سبحان الله وبحمده سبحان اللہ العظیم کو میزان میں حاصل ہے اور بتایا ہے کہ یہ کلمات اس لئے ثقیل ہیں کہ ان کا بدلہ صرف صفت رحیمیت کے ماتحت ہی نہیں بلکہ صفت رحمانیت کے ماتحت بھی ملتا ہے کیونکہ