انوارالعلوم (جلد 26) — Page 33
انوار العلوم جلد 26 33 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔لوجی ! حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو ہم پیش کرتے ہیں۔گو آدم کو دھوکا لگنے کی وجہ موجود تھی تمہارے پاس کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹوں کو تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔کیونکہ ان کا دعوی یہی ہے کہ یہ اپنے خاندان میں خلافت رکھنا چاہتے ہیں۔خلافت تو خدا اور جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں ہے۔اگر خدا اور جماعت احمد یہ خاندان بنو فارس میں خلافت رکھنے کا فیصلہ کریں تو یہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے کون ہیں جو اس میں دخل دیں۔خلافت تو بہر حال خدا تعالیٰ اور جماعت احمدیہ کے اختیار میں ہے۔اور خدا اگر ساری جماعت کو اس طرف لے آئے گا تو پھر کسی کی طاقت نہیں کہ کھڑا ہو سکے۔پس میں نے یہ رستہ بتا دیا ہے۔لیکن میں نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو عیسائی طریقہ انتخاب پر غور کرے گی کیونکہ قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا اُسی طرح تم کو بنائے گا۔سو میں نے کہا عیسائی جس طرح انتخاب کرتے ہیں اُس کو بھی معلوم کرو۔ہم نے اُس کو دیکھا ہے گو پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی وہ بہت سادہ طریق ہے۔اس میں جو بڑے بڑے علماء ہیں اُن کی ایک چھوٹی سی تعداد پوپ کا انتخاب کرتی ہے اور باقی عیسائی دنیا اسے قبول کر لیتی ہے۔لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ سے پہلے ہی میں نے چند قواعد تجویز کر دیئے ہیں جو اس سال کی مجلس شوری کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے تاکہ کسی شرارتی کیلئے شرارت کا موقع نہ رہے۔یہ قواعد چونکہ ایک ریزولیوشن کی صورت میں مجلس شوری کے سامنے علیحدہ پیش ہوں گے اس لئے اس ریزولیوشن کے شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔میں نے پُرانے علماء کی کتابیں پڑھیں تو اُن میں بھی یہی لکھا ہوا پایا ہے کہ تمام صحابہ اور خلفاء اور بڑے بڑے ممتاز فقیہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خلافت ہوتی تو اجماع کے ساتھ ہے لیکن یہ وہ اجماع ہوتا ہے کہ يَتَيَسَّرَ اِجْتِمَاعُهُمْ ) جن ارباب حل و عقد کا جمع ہونا آسان ہو۔یہ مراد نہیں کہ اتنا بڑا اجتماع ہو جائے کہ جمع ہی نہ ہو سکے اور خلافت ہی ختم ہو جائے بلکہ ایسے لوگوں کا اجتماع ہوگا جن کا جمع ہونا آسان ہو۔سو میں نے ایسا ہی اجماع بنا دیا ہے جن کا جمع ہونا آسان ہے۔اور اگر ان میں سے کوئی نہ پہنچے تو میں نے کہا