انوارالعلوم (جلد 26) — Page 529
انوار العلوم جلد 26 529 ہمارا جلسہ سالانہ شعائر اللہ میں سے ہے۔کرے جنہوں نے کھیت میں بیج ڈالا اور پھلدار پودے لگائے۔بے شک وہ اُس وقت خوش ہو رہا ہوگا جب وہ پھل تو ڑ رہا اور کھیت کاٹ رہا ہوگا۔مگر اس کے ساتھ ہی اگر وہ خوشی سے ہنس رہا ہوگا تو دوسری طرف اس کی آنکھیں غم سے آنسو بھی بہا رہی ہوں گی کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ جو خوشی مجھے آج حاصل ہو رہی ہے اس کا اصل حق دار وہی تھا جس نے کھیت بونے اور پودے لگانے میں اپنی زندگی خرچ کر دی۔مجھے یاد ہے 1924ء میں جب میں لندن گیا اور میں نے وہاں مسجد کی بنیا د رکھی تو اُس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ میرے آنسو تھمنے میں ہی نہیں آتے تھے کیونکہ اُس وقت وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اعلان فرمایا تھا کہ : دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔2 جب یہ الہام پا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے۔اُس دنیا کے مقابلہ میں جس کا ایک ایک فرد آپ کے خون کا پیاسا تھا۔آپ کو لالچی ، حریص ، خود غرض اور کیا کچھ کہہ رہا تھا تو اُس وقت آپ کی کیا حالت ہوگی۔آپ اس مخالفت کو دیکھ کر دنیا سے متنفر ہوں گے مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ اُٹھے اور دنیا میں میرے نام کی منادی کر اور اُسے کہہ دے کہ حَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ 3۔وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تیری مدد کرے اور تجھے دنیا میں لازوال شہرت عطا کرے۔اُس وقت آپ کو بار بار یہ خیال آتا ہوگا کہ میں تو کسی شخص سے ملنا بھی نہیں چاہتا مگر میرا خدا مجھے کہتا ہے کہ جا اور لوگوں کو بلا۔پس آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم کو قبول کر کے وہ موت اختیار کی جس سے بڑھ کر انبیاء کے لئے اور کوئی موت نہیں ہوتی۔آپ گوشہ تنہائی سے نکل کر دنیا کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور دنیا سے وہ سب کچھ کہلوایا جو پہلے نبیوں کو کہا جاتا رہا ہے۔کبھی کہا گیا یہ حریص ہے ، یہ مال و دولت جمع کرنا چاہتا ہے اور اپنی دکانداری چلانا چاہتا ہے۔کبھی دنیا آپ کی باتوں پر ہنستی اور کہتی کیسی پاگل نہ باتیں کر رہا ہے۔کبھی آپ کو مفسد اور فتنہ پرداز