انوارالعلوم (جلد 26) — Page 497
انوار العلوم جلد 26 497 افتتاحی و اختتامی خط سالانہ 1959ء مگر یہ کام صحیح طور پر بھی ہو سکتا ہے جب کم از کم ایک ہزار معلم ہوں اور ان کے لیے اخراجات کا اندازہ بارہ لاکھ روپے ہے۔بارہ لاکھ روپیہ کی رقم مہیا کرنا جماعت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں۔کیونکہ اگر دولاکھ افراد جماعت چھ روپے سالانہ فی کس کے لحاظ سے چندہ دیں تو بارہ لاکھ بن جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔پچھلے سال جماعت کی طرف سے صرف ستر ہزار روپے کے وعدے ہوئے تھے اور اس سال بھی اتنے ہی وعدے ہوئے جس سے صرف 90 معلمین رکھے جا سکے۔اس سال پچھلے سال سے زیادہ اچھا کام ہوا ہے۔چنانچہ مشرقی پاکستان میں بھی کام شروع ہو گیا ہے اور وہاں بھی ایک انسپکٹر اور چار معلم مقرر کئے جاچکے ہیں۔پچھلے سال ان معلمین کی تعلیم و تربیت اور خدمت خلق کا جذبہ دیکھ کر پانچ سو نئے افراد نے بیعت کی تھی اس سال چھ سو اٹھائیس افراد نے بیعت کی ہے۔پس میں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندہ میں حصہ نہ لے۔یہ امر یا درکھو کہ قوم کی عمر انسان کی عمر سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پس آپ لوگ ایسی کوشش کریں کہ آپ کے زمانہ میں تمام دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ابھی تو ایک نسل بھی نہیں گزری کہ ہندوستان میں ہمارے سلسلہ کے شدید ترین مخالف بھی احمدیت کی خوبیوں کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔اور میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنیٰ خادم ہوں میری تفسیر کی وہ بہت تعریف کرتے ہیں۔یہ انقلاب جو پیدا ہورہا ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ پھیر دے میری طرف اے ساریاں جگ کی مہار 14 اور اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی طرف لوگوں کی توجہ پھیرنی شروع کر دی اور ہمیں یقین ہے کہ اس دعا کے مطابق ایک دن ساری دنیا احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔دنیا کی آبادی