انوارالعلوم (جلد 26) — Page 446
انوار العلوم جلد 26 446 سیر روحانی (12) پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھیں گے بلکہ يَا رَسُولَ الله ! اگر جنگ ہوئی تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہو انہیں آئے گا آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔59 پھر عرب پانی سے بہت ڈرتے تھے مگر حضرت مقداد نے کہا اگر آپ ہماری قوم کو حکم دیں کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو تو يَارَسُولَ اللہ ! ہم فورا اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے اور اس بات کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم بچتے ہیں یا نہیں بچتے۔60 پھر جنگِ اُحد کے موقع پر بھی آپ نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور اپنی خواب کا ذکر کیا کہ آپ نے گائیں ذبح ہوتی دیکھی ہیں۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی ابتلاء پیش آئے گا۔مگر با وجود اس خواب کے آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔آپ کا خیال تھا کہ اگر مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کی گئی تو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے۔لیکن صحابہ کے مشورہ پر آپ مدینہ سے باہر نکل پڑے اور لڑائی ہوئی اور نقصان بھی ہوا اور اس طرح آپ کی خواب پوری ہو گئی۔11 ملکہ سبا کا ذکر اسی طرح قرآن کریم میں ملکہ سبا کا ذکر آتا ہے۔ملکہ سبا گومشرکہ تھی لیکن اُس کے واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتی تھی جب تک کہ ملک کے سرداروں کے ساتھ مشورہ نہیں کر لیتی تھی۔چنانچہ جب اُس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط پہنچا تو اُس نے کہا۔يَايُّهَا الْمَلَوا أَفْتُونِي فِي أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّى تَشْهَدُونِ - 62 یعنی اے میری قوم کے سردارو! میری اس پیش آمدہ مصیبت میں مجھے مشورہ دو کیونکہ میں کوئی کام نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر ہو کر مشورہ نہ دو۔ان آیات میں مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ جب ایک کا فرعورت بھی حکومتی معاملات میں احتیاط سے کام لیتی تھی تو تم تو مسلمان ہو اور تمہارے لئے قرآن کریم میں حکم بھی ہے کہ مشورہ کیا کرو۔پس تمہیں بھی ہر معاملہ میں باہم مشورہ کرنا چاہئے۔فرعون کا عمائد قوم سے مشورہ طلب کرنا اسی طرح قرآن کریم فرعون کا ذکر کرتا ہے کہ باوجود اس کے