انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 424

انوار العلوم جلد 26 424 سیر روحانی (12) اور حضرت علی کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ میں ہی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق انبیاء کے مثیل اور اُن سے افضل تھے وضاحت سے فرماتا ہے کہ آپ حضرت موسی کے مظہر ہیں چنانچہ فرمایا اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً 13 یعنی اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح ایک رسول تمہارا نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اسی طرح سورۃ یوسف کے آخر میں بھی یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یوسف کے مثیل ہیں 14۔چنانچہ جب آپ نے مکہ فتح کیا اور آپ کے سامنے وہ تمام مجرم پیش ہوئے جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ تیرہ سال تک آپ پر اور آپ کے صحابہ" پر بے انتہاء ظلم کرتے رہے تھے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ بتاؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے؟ تو وہ لوگ گو آپ کے منکر تھے لیکن قرآن کریم سُن سُن کر اُن کو اتنا پتا لگ گیا تھا کہ آپ مثیل یوسف بھی ہیں۔چنانچہ انہوں نے کہا آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا اور چونکہ آپ مثیل یوسف تھے اس لئے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا کہ جاؤ میں تم سب کو معاف کرتا ہوں ، اسی طرح آپ نے بھی مشرکین مکہ سے فرمایا کہ لَا تَشْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 15 آج تم پر کسی قسم کی گرفت نہیں۔گویا آپ نے عملاً وہی مثال پیش کی جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے معاملہ میں پیش کی تھی۔حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تو اُن کے باپ کی نسل میں سے تھے لیکن مکہ والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کی نسل میں سے نہیں تھے اور نہ ہی اُن سے آپ کا دودھ کا کوئی تعلق تھا۔جس سے پتا چلتا ہے کہ آپ صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے مثیل ہی نہیں تھے بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر تھے۔صرف مثال کے طور پر چند مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ