انوارالعلوم (جلد 26) — Page 415
انوار العلوم جلد 26 415 سیر روحانی (12) لگنا چاہئے کہ میں نے یہ بات تمہیں بتائی ہے۔اگر تم کسی کو نہ بتاؤ تو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ تم اِس اِس قسم کے میمورنڈم (MEMORANDUM) بھجواؤ۔میں وہ میمورنڈم گورنمنٹ کے پاس بھجوا دوں گا اور اُنہیں لکھوں گا کہ مسلمانوں پر اس اس قسم کے ظلم ہور ہے ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔اُس ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وہ لیڈر بڑا پختہ وعدہ کر کے گئے لیکن شام ہوئی تو انہوں نے ہندوؤں کو بتا دیا کہ ہمیں ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ یہ باتیں بتائی ہیں۔چنانچہ دوسرے دن ہندوؤں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اُس نے شکایت کی کہ صاحب ! ہم تو آپ کو اپنا مائی باپ کہتے ہیں آپ مائی باپ ہو کر مسلمانوں کو ہمارے خلاف کرنے لگے ہیں۔اس پر میں اتنا شرمندہ ہو ا کہ اس کی حد نہیں۔اس کے بعد جب میں لاہور آیا تو یہاں یہ حالت تھی کہ اس فساد کی وجہ سے ایک بڑے لیڈر کو مسلمانوں نے میرے پاس بھجوایا کہ تم جا کر ڈپٹی کمشنر کو بتاؤ کہ مسلمانوں پر سختی ہو رہی ہے۔مجھے پتا لگ گیا که مسلمان فلاں شخص کو میرے پاس بھیج رہے ہیں۔لیکن جب وہ میرے پاس آیا تو کہنے لگا۔میں نے فلاں رشتہ دار کی سفارش آپ کے پاس کی تھی وہ کام ابھی ہوا ہے یا نہیں ہوا ؟ اور اُدھر میلا رام کے بیٹے رام سرن داس نے اپنی مل کے متعلق مجھ سے وقت لیا ہوا تھا وہ ملنے آیا تو میں نے کہا۔سُنائیے رائے صاحب! آپ کی مل کا کیا حال ہے؟ تو اس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھ دی اور رونے لگ گیا اور کہنے لگا۔میری قوم تباہ ہو رہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔اب دیکھو! مسلمانوں نے اس فساد کے سلسلہ میں اپنے لیڈر کو میرے پاس بھیجا تو بجائے اپنا اصل مقصد بیان کرنے کے وہ مجھ سے کہنے لگا میں نے ایک شخص کی آپ کے پاس سفارش کی تھی اُس کا کیا بنا؟ اور ادھر وہ ہندو جس نے فساد سے پہلے کا وقت مقرر کیا ہو ا تھا وہ آیا اور میں نے دریافت کیا کہ رائے صاحب! آپ کی مل کا کیا حال ہے؟ تو اُس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھ دی اور رو کر کہنے لگا کہ میری قوم تباہ ہو رہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔مل کیا چیز ہے اس پر قوم مقدم ہے۔تو اُس ڈپٹی کمشنر نے خانصاحب ذوالفقار علی خان صاحب سے کہا کہ جب یہ حال ہے تو میں کیا کروں۔میں نے مجبوراً ہندوؤں کی مدد کی ہے کیونکہ