انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 369

انوار العلوم جلد 26 369 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1958 ء اعلان کیا تھا کہ ایسے لوگ جن کی بیویاں پردہ چھوڑ رہی ہیں وہ چاہے کتنے ہی معزز ہوں اُن سے عدم تعلق کا اظہار کیا جائے۔اس پر مجھے افریقہ کے ایک پریذیڈنٹ نے رپورٹ کی کہ ایک مجلس میں بعض ایسے لوگ جمع تھے جن کی بیویوں نے پردہ چھوڑا ہو ا تھا۔میں نے اُن سے مصافحہ نہیں کیا۔اس پر وہ ناراض ہو گئے اور جماعت کے مبلغوں نے کہا کہ تم نے غلطی کی ہے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ نے جو کچھ کیا درست کیا۔آپ میرے خطبہ کو صحیح سمجھے ہیں اور مبلغ غلط سمجھے ہیں۔ہاں غیر ملکوں میں جہاں پر دہ کا رواج نہیں ہے وہاں عدم تعلق کے ساتھ ساتھ سمجھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَذَكِّرُ اِن نَفَعَتِ الذِكری 2 یعنی نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ہمیشہ فائدہ بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔پس دوسروں پر صرف پریذیڈنٹی کا رُعب ہی نہ جماؤ بلکہ اخلاص ، خدمت اور پیار سے انہیں اسلام کی طرف واپس لاؤ محض رُعب سے کام نہیں چلتا بلکہ اخلاص ، خدمت اور پیار سے کام چلتا ہے۔غرض میں نے انہیں لکھا کہ بات تو آپ نے سمجھ لی ہے اور صحیح طور پر سمجھ لی ہے لیکن صحیح طریق استعمال یہی ہے کہ عدم تعلق کے ساتھ ساتھ اخلاص ، خدمت اور قربانی کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کی جائے۔اسی طرح ہماری جماعت میں تنظیم بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوئی ہے جس کے ہمیشہ خوشکن نتائج ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک زمانہ میں جب میں جوان تھا قادیان میں مخالفوں کا جلسہ ہو ا۔انہوں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ ہم بہشتی مقبرہ پر حملہ کریں گے اور احمدیوں کی قبریں کھود دیں گے۔میں نے حفاظت کے لئے باہر سے آدمی منگوائے ہوئے تھے۔وہ زمیندار اور ان پڑھ تھے۔رات کو میں یہ دیکھنے کے لئے باہر گیا کہ یہ لوگ کیسا پہرہ دے رہے ہیں۔میرے ساتھ مولوی ذوالفقار علی خانصاحب گو ہر مرحوم تھے۔اچانک ایک زمیندار دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے مجھے کمر سے پکڑ لیا اور کہنے لگا۔میں آگے نہیں جانے دوں گا۔کچھ دوست کہنے لگے یہ خلیفہ امسیح ہیں۔وہ کہنے لگا میں نہیں جانتا کہ یہ خلیفہ مسیح ہیں۔میری ڈیوٹی یہ ہے کہ میں نے اس جگہ سے آگے کسی کو جانے نہیں دینا جب تک اس کو پاس ورڈ معلوم نہ ہو یا اس نے ڈیوٹی کا پلا نہ لگایا ہؤا و