انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 289

انوار العلوم جلد 26 289 اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔وہ عورت کہنے لگی بیٹی ! تو میری جگہ آ کر اپنے والد بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا۔میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا۔میں ان سب کو احمدی بنا کر ہی دم لوں گی۔شاید یہی عورت جلسہ سالانہ سے چند ماہ قبل یہاں آئی۔اس کے پاس ایک بچہ تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے وہ ربوہ نہیں آتا تھا۔میں اُس کا بچہ اٹھا لائی ہوں کہ وہ اس بچہ کی وجہ سے تو ربوہ آئے گا۔مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اس کا وہ بھائی احمدیت کے قریب ہے لیکن چودھری فتح محمد صاحب نے جن کے سپرد یہ علاقہ ہے بتایا ہے کہ وہ احمدی ہو گیا ہے اور اس وقت جلسہ سالانہ پر آیا ہوا ہے۔“ اس موقع پر چودھری فتح محمد صاحب کے کہنے پر وہ دوست کھڑے ہو گئے اور سب حاضرین جلسہ نے انہیں دیکھا۔تو دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ یا تو وہ بھائی ربوہ آتا نہیں تھا اور اس کی یہن اس کا بچہ اٹھالائی کہ شاید وہ اس بچہ کی وجہ سے ربوہ آ جائے اور یا اب وہ احمدی ہو گیا ہے اور اس وقت جلسہ سالانہ پر آیا ہوا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ : عورتوں نے مجھے بتایا ہے کہ پچھلے سال جلسہ سالانہ کے انتظامات میں بعض باتیں ایسی تھیں جو اچھی تھیں مگر اس سال وہ نظر نہیں آئیں۔مثلاً انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ پچھلے سال اُس سڑک کو جو جلسہ گاہ سے میرے گھر کی طرف جاتی ہے پندرہ ہیں خدام مقرر کر کے تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ایک طرف سے عورتیں گزرتی تھیں اور ایک طرف سے مرد گزرتے تھے اور درمیان میں سے موٹرمیں گزرتی تھیں لیکن اس سال یہ انتظام نہیں ہے۔تعجب ہے کہ انتظام میں ہر سال ترقی ہونی چاہیے تھی مگر اس کے خلاف اس انتظام میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔بجائے اس کے کہ اس سال پہلے سے بھی زیادہ اچھا انتظام کیا جاتا اور خدام کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا تا وہ اس سڑک کو ہی نہیں بلکہ دوسری سڑکوں کو بھی تین حصوں میں پھاڑ کر اس قسم کا انتظام کر دیتے اس انتظام کو سرے سے ہی