انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxii of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxii

انوار العلوم جلد 26 21 تعارف کنند میں موجود ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اُن تمام سچائیوں کے اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور اُن میں جو غلطیاں اور زوائد تھے اُن کی اصلاح کر دی گئی ہے" حضور نے اس لیکچر میں قرآنی تعلیمات کی رو سے زمین و آسمان کی پیدائش، تاريخ وحی رسالت علم نباتات کے متعلق قرآن کریم کے اہم انکشافات ، نظام ہائے تمشی ، انبیاء پر ہونے والے الزامات کی بریت جیسے اہم مضامین بیان فرمائے۔انبیاء کی بریت کے ذکر میں حضرت ہارون علیہ السلام پر لگنے والے الزام کے جواب میں آپ نے فرمایا: " قرآن کریم میں یہ بیان کردہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ انسائیکلو پیڈیا آف برٹینی کا جس کو انگلستان کے بڑے بڑے عالموں نے مل کر لکھا ہے اُس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ہارون علیہ السلام کے شرک کرنے کا واقعہ غلط ہے اور اس سے مضمون نگار استدلال کرتا ہے کہ بائبل میں دوسرے لوگوں نے اور بھی کئی باتیں ملادی ہیں اور کئی واقعات اُن کی طرف سے بڑھا دیئے گئے ہیں۔اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم ایک تاریخ بیان کرتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے باپ کو بُری قرار دیتا ہے حالانکہ وہ عیسائی اور یہودی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوذُ بِاللهِ ) کذاب کہتے ہیں۔غرض قرآن کریم ایک گالی دینے والے کے باپ کی براءت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مشرک نہیں تھا۔مشرک ایک اور شخص تھا جس کا نام سامری تھا" خطاب کے آخری حصہ میں قرآن کریم میں تربیت کے اصول بیان کرتے ہوئے نظام شوری پر روشنی ڈالی اور علم الاخلاق و علم الانسان کی تفصیل بیان کرنے کے ساتھ یا جوج ماجوج کے ظاہر ہونے اور فلسطین پر یہود کے قبضہ کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا: " اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں یا جوج اور ماجوج جس سے مراد روس اور انگلستان ہیں، ساری دنیا پر چھا جائیں گے اور یہ دونوں قو میں سمندر کی لہروں پر سے ہوتے ہوئے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے پھاندتے ہوئے ساری دنیا