انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 202

انوار العلوم جلد 26 202 مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب لگا ہوا تھا وہ حیران ہوئے یہ شخص اندر کس طرح آ گیا ہے۔اس نے ان کی حیرت کو دیکھ کر کہا کہ میں شیطان ہوں اور تمہیں نماز کے لئے جگانے آیا ہوں۔وہ کہنے لگے کہ شیطان تو نماز سے روکا کرتا ہے تو مجھے نماز کے لئے کیوں جگا رہا ہے؟ اُس نے کہا بات اصل میں یہ ہے کہ میرے روکنے کی اصل غرض تجھے نیکی اور ثواب سے محروم رکھنا تھی مگر تم اتنا روئے کہ خدا نے کہا کہ اسے ایک سو نماز با جماعت کا ثواب دے دیا جائے۔پس میں نے سمجھا کہ اب اسے ثواب سے روکنے کا یہی طریق ہے کہ اسے نماز کے لئے جگا دیا جائے۔اس طرح کم از کم اسے ایک نماز کا ہی ثواب ملے گا زیادہ ثواب نہیں لے سکے گا۔تو جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو اس کا قدم آگے بڑھتا ہے۔اب خواہ معاویہ کے پاس جبریل آتا اور کہتا کہ معاویہ اٹھو اور نماز پڑھو اور خواہ شیطان نے کہا بات ایک ہی ہوگئی۔مگر شیطان کے کہنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث حل ہو گئی کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے 2 اور وہ جو بات بھی میرے دل میں ڈالتا ہے نیک ہوتی ہے۔حضرت معاویہ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں یہ بات حاصل ہوگئی اور شیطان نے انہیں نماز کے لئے جگا دیا۔اگر تم دعائیں کرو گے اور دوسروں کو نیک تحریکیں کرو گے تو آہستہ آہستہ تمہارے کمزور خدام میں بھی تغیر پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔پس کمزوروں کو اپنی اجتماعی دعاؤں میں شریک کرو اور ان سے کہو کہ اب تحریک جدید کا نیا دور شروع ہے جس میں ماہوار آمد کا بیس فیصدی چندہ دینا ضروری ہوتا ہے تم اگر بیس فیصدی نہیں دے سکتے تو نصف فیصدی ہی دے دو۔فی روپیہ ایک پیسہ ہی دے دو ہم تم سے اسی قدر چندہ لے لینا غنیمت سمجھتے ہیں۔مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے لوگوں نے ایک آنہ سے مد د شروع کی تھی اور پھر سینکڑوں روپیہ دینے لگ گئے اُسی طرح تم بھی اپنی قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔چنانچہ جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تو پہلے سال میں نے 930 روپیہ دیا۔اس کے بعد بڑھاتے بڑھاتے دسویں سال میں نے دس ہزار روپیہ دیا جو اب تک برابر ہر سال دیتا چلا آ رہا ہوں۔مگر اب میں محسوس کرتا ہوں کہ دس ہزار روپیہ بھی کم ہے۔شروع میں زمینوں کی جتنی آمد ہوتی تھی وہ ساری خرچ ہو جاتی تھی مگر اب میں