انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 140

انوار العلوم جلد 26 140 سیر روحانی (10) انعام مقرر نہیں کیا گیا ، آئندہ سال شروع ہوگا۔میرا کل کا مضمون کچھ کہا جال سا تھا۔ایک لمبی تاریخ بیان کرنی تھی جس میں سینکڑوں واقعات تھے اور سینکڑوں شہادتیں تھیں۔اس لئے باوجود اس کے کہ کئی دن ذہن میں میں اُنہیں دُہراتا رہا پھر بھی بیان کرتے وقت بہت سی باتیں ذہن سے نکل گئیں۔ایک بات جو کل میں کہنی چاہتا تھا اور جو خوشی کی خبر ہے مگر میں بھول گیا وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک کتاب امریکن کتاب کا ترجمہ کر کے شائع کی گئی تھی اور اس کا ترجمہ کرنے والے بھارت کے ایک صوبہ کے گورنر مسٹر منشی بمبئی والے تھے۔اس میں کچھ نامناسب الفاظ تھے۔مسلمانوں نے سمجھا کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے چنانچہ وہاں اتنی شورش ہوئی اور اتنا فساد ہوا کہ سینکڑوں مسلمان مارے گئے اور ہزاروں جیل خانوں میں گئے۔آج تک وہ مقدمے چل رہے ہیں اور آج تک مسلمان گرفتاریوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔اُدھر کی شورش کو دیکھ کر جبکہ گورنمنٹ نے اُدھر توجہ نہ کی تو پاکستان گورنمنٹ نے اس کتاب کو ضبط کر لیا گو اس کے بعد ہندوستانی گورنمنٹ نے بھی وہ کتاب ضبط کر لی۔میں نے اس پر خطبہ پڑھا اور کہا کہ یہ ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں تب تو ان لوگوں کے دلوں میں مشبہ پیدا ہوگا کہ ہماری باتوں کا جواب کوئی نہیں۔واقع میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی ہوں گے تبھی کتاب ضبط کرتے ہیں ، اس کا جواب نہیں دیتے۔اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب دیا جاتا اور امریکہ اور ہندوستان میں شائع کرایا جاتا۔میرے اس خطبہ کے بعد ہندوستان سے خصوصاً بمبئی سے رپورٹ آئی کہ ترجمہ کرانے کی ضرورت نہیں یہاں زیادہ تر انگریزی پڑھے ہوئے لوگوں میں اس کا چرچا ہے۔اس لئے جو انگریزی کتاب امریکہ کے لئے چھپے وہی ہندوستان میں بھیج دی جائے اور وہ انگریزی دان طبقہ میں تقسیم کی جائے۔اگر ضرورت سمجھی جائے تو بعد میں اس کا اردو ترجمہ بھی ہو جائے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اب امریکہ سے آئے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے کتاب پڑھی ہے اس کے متعلق کئی غلط فہمیاں ہیں۔وہ کتاب در حقیقت ایک تحقیقی