انوارالعلوم (جلد 26) — Page 91
انوار العلوم جلد 26 91 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کہ مجھے یاد آ گیا اور میرے حافظہ نے کام دیا کہ ان کا نام مولوی محمد زکریا تھا۔اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب احراری لیڈر کے والد ہیں۔1946ء میں محمد عبد اللہ صاحب ظفر وال ضلع سیالکوٹ کی گواہی کے مطابق میاں عبدالمنان صاحب نے مجھ پر اپنی جائیداد غصب کرنے کا الزام لگایا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔”ہمارے ایک معزز غیر احمدی دوست نے ( جو علاقہ مجسٹریٹ کے ریڈر ہیں) مجھے بتایا کہ مولوی منان میرے واقف ہیں۔پارٹیشن سے پہلے جب کبھی میں ان کے ہاں جایا کرتا وہ حضور کے خلاف سخت غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ دیکھو جی! کمائی ہمارے باپ کی اور کھا یہ رہے ہیں ( گویا مسیح موعود کی کمائی ہی نہیں۔کمائی حضرت خلیفہ اول کی تھی۔اگر جسمانی لوتب بھی حضرت خلیفہ اول کی کمائی ہم سے ہزارواں حصہ بھی نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور ایک شہر قادیان کا ملا تھا اور خلیفہ اول کو اُن کے باپ کی طرف سے ایک کچا کوٹھا بھی نہیں ملا تھا ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ان کے گل بن رہے ہیں۔" 1950ء میں میاں عبد السلام نے یہ کہا کہ عبد الباسط اُن کے بڑے بیٹے کو زہر دیا گیا ہے۔وہ لائل پور میں پڑھتا تھا اور میں نے جماعت لائل پور سے گواہی منگوائی ہے وہ کہتے ہیں کہ میونسپل کمیٹی میں اُن کا ریکارڈ موجود ہے اور میونسپل کمیٹی کی سند موجود ہے کہ اُس نے خود کشی کی تھی۔بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب ہم نے جنازہ نہ پڑھا کیونکہ خودکشی کرنے والے کا جنازہ جائز نہیں ہوتا تو میاں عبدالمنان نے آ کر کہا کہ عبد الباسط نے خود کشی نہیں کی بلکہ کسی نے اس کو زہر دے دیا ہے اور اُس کی موت میں مختلف لوگوں کا ہاتھ ہے۔اور اس کے بعد میاں عبدالسلام اور عبدالمنان دونوں نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس نے خود کشی نہیں کی بلکہ اُسے زہر دیا گیا ہے۔چنانچہ چودھری رشید احمد صاحب بٹ جو سکھر میں ہیں اور مولوی عبد السلام صاحب کی زمینوں کے قریب رہتے ہیں ان کی بھی یہی گواہی ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔