انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 90

انوار العلوم جلد 26 90 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ہمیں انہی لوگوں سے مرزائیوں کے راز معلوم ہوتے ہیں۔اور کہا کہ ( مجھے صحیح یاد نہیں آج یا کل) یہ چودھری افضل حق کے پاس بھی آئے تھے۔(اُن دنوں چودھری افضل حق صاحب شملہ میں تھے ) اور بھی گفتگو ہوئی مگر اب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یاد نہیں مگر وہ الفاظ یا مفہوم جن سے مولوی صاحب کا احراریوں سے تعلق ظاہر ہوتا تھا اور پھر خلیفہ اول کی اولا دکس طرح بھول سکتے ہیں سخت صدمہ ہوا۔میں نے کسی رنگ میں بعد میں مولوی صاحب سے خود چودھری افضل حق صاحب سے ملاقات کی تصدیق بھی کروالی۔پیغامیوں سے ان کے تعلقات کا کئی دفعہ سن چکا تھا۔مگر یہ الفاظ رنج دہ تھے۔منظور صاحب نے میرے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُن سفید ریش مولوی صاحب کو یہ نہ بتایا کہ یہ احمدی ہیں بلکہ مسکراتے رہے اور انہیں نہ ٹو کا۔جب وہ مولوی صاحب چلے گئے تو مجھے بتایا کہ یہ مولوی صاحب مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی احراری لیڈر کے والد ہیں۔بعد میں دوسروں سے بھی تصدیق ہوگئی کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد ہیں کیونکہ پھر کئی دفعہ ملنے کا موقع ملا۔میں ان الفاظ پر جو مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد نے کہے تھے حرف بحرف حلف نہیں اُٹھا سکتا مگر میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی حبیب الرحمن صاحب کے والد صاحب نے جن کا نام مجھے یاد نہیں اس مفہوم کے الفاظ کہے تھے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب احراریوں کے مخیر ہیں اور آج یا کل بھی (شملہ میں ) چودھری افضل حق صاحب کے پاس آئے تھے۔43 پراچہ صاحب نے جلسہ سالانہ پر شہادت دیتے ہوئے بتایا کہ جب الفضل میں میرا یہ خط شائع ہوا تو اُس وقت مجھے اُن سفید ریش معمر مولوی صاحب کا جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے نام یاد نہیں تھا اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام مولوی محمد زکریا تھا اور میں خود بھی قسم کھا کے کہتا ہوں