انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 60

انوار العلوم جلد 26 60 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت حرکت یا کسی اور وجہ سے قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔سارہ نے سمجھا کہ اس نے میری اور میرے بچہ کی حقارت کی ہے اور قہقہہ مارا ہے۔شاید یہ بھی خیال کیا کہ یہ اس بات پر خوش ہے کہ یہ بڑا بیٹا ہے اور یہ وارث ہوگا اور اسحاق وارث نہیں ہو گا۔تب انہوں نے غصہ میں آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ یہ لڑکا مجھ پر قہقہے مارتا ہے، اس کو اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دو۔کیونکہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بیٹے کے ساتھ یہ تیرا وارث ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے تو اس بات کو بُرا منایا اور اس کام سے رُکے مگر خدا تعالیٰ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ظاہر کرنا چاہتا تھا اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی کی کہ جو کچھ تیری بیوی سارہ کہتی ہے وہی کر 24۔چنانچہ خدا کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور اسماعیل کو وادی حرم میں چھوڑ گئے۔اور سارہ اور اسحاق کے سپرد کنعان کا علاقہ کر دیا گیا اور اسماعیل کی نسل نے مکہ میں بڑھنا شروع کیا۔اور وہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھرانے میں پیدا ہو گئے۔مگر یہ رقابت یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش پر ان کی ماں سے کہا تھا، اُسی طرح ہوا کہ :۔اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف ہوں گے۔25 یعنی ایک زمانہ تک اسماعیلی نسل تھوڑی ہوگی اور اسحاق کی نسل زیادہ ہوگی۔اور وہ سب کے سب مل کر اسماعیلی سلسلہ کی مخالفت کریں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ کامیاب نہ ہوں۔قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے : وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كَفَارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقِّ 20 الـ یعنی اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسماعیلی نسل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اُسے چھوڑ کر پھر کافر ہو جائیں۔اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قصور کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دلوں سے پیدا شدہ بغض کی وجہ سے ہے اور رقابت کی وجہ سے الخ ) ہے۔وہ سارہ اور ہاجرہ کی لڑائی کو دو ہزار سال تک لمبالے جانا چاہتے ہیں۔پھر علاوہ اس آیت کے بعض اور آیتیں بھی ہیں جو اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔مثلاً سورة آل عمران رکوع 8 آیت 73 74 میں فرماتا ہے وَقَالَتْ ظَابِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ