انوارالعلوم (جلد 26) — Page 59
انوار العلوم جلد 26 59 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت تھا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچپن سے ہی تو حید پر قائم کر دیا تھا۔جب انہوں نے بتوں کی مخالفت شروع کی تو چچا کے بیٹوں نے اپنے باپ کے پاس اُن کی شکایت کر دی اور لوگوں کو بھی یہ بتایا کہ یہ لڑکا بتوں کی حقارت کرتا ہے۔چنانچہ لوگ جوق در جوق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بحث کے لئے آنے شروع ہوئے۔اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کو شرمندہ کرنے کے لئے اُن کے بعض بتوں کو توڑ دیا تو انہوں نے اس حسد کی بناء پر جس کی وجہ سے ابلیس نے آدم کا مقابلہ کیا تھا پبلک میں شور مچادیا کہ ابراہیم کو لاؤ اور اُس کو آگ میں جلا دو۔جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے، یہ ہجرت اُن کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اُن کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہجرت کے بعد کنعان اور حجاز کا ملک بخشا گیا۔اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالے جانے کے بعد پہلے مدینہ اور پھر ساری دنیا ملی۔پس ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ بھی وہی رقابت کی روح تھی جو کہ آدم کی مخالفت کی وجہ تھی۔اور جو رقابت کہ خلافت احمدیہ کی مخالفت کی وجہ بنی۔بظاہر اسے دینی سوال بنا دیا گیا ہے لیکن اس کا باعث در حقیقت رقابت اور بغض تھا۔اور یہ واقعہ اُسی طرح کا ہے جس طرح ابلیس نے حوا سے کہا تھا کہ اگر تم شجرہ ممنوعہ کو چکھو گے تو تمہارے تقویٰ کی روح بڑی بلند ہو جائے گی اور " تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے " 23 لیکن حقیقتاً اس کی غرض یہ تھی کہ آدم اور حوا کو جنت سے نکالا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں اس رقابت نے دوسری دفعہ جو صورت اختیار کی وہ مندرجہ ذیل ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری عمر میں جب اُن کا پلوٹھا بیٹا اسماعیل ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کے بعد ان کی پہلی بیوی سارہ کے بطن سے اسحاق پیدا ہوا تو سارہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ماموں کی بیٹی تھیں اُن کو خیال تھا کہ میں خاندانی ہوں اور ہاجرہ باہر کی ہے اس لئے وہ اپنا درجہ بڑا سمجھتی تھیں۔اتفاقاً حضرت اسماعیل جو بچے تھے حضرت اسحاق کی کسی