انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 615

انوار العلوم جلد 26 615 پیغامات اشرار الناس پر نہیں بلکہ اخیار الناس پر آئے۔یہ تو امت کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا اچھا بنائے کہ خدا تعالیٰ اپنی تقدیر کو بدل دے اور قیامت آنے کے وقت بھی دنیا میں اچھے لوگ ہی ہوں بُرے نہ ہوں۔اور چونکہ اس زمانہ میں دنیا کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو کھڑا کیا ہے اور ہماری جماعت نے قیامت تک اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے چلے جانا ہے اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ قیامت اچھے لوگوں پر ہی آئے اور ہماری جماعت کے افراد کبھی بگڑیں نہیں بلکہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ پر قائم رہیں۔سلسلہ سے پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رہیں۔اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرتے رہیں۔اور اپنے نیک نمونہ سے دوسروں کی ہدایت کا موجب بنیں۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی اپنا اچھا نمونہ دکھائیں اور دوسروں کو بھی اپنے عملی نمونہ اور جد و جہد سے نیک بنانے کی کوشش کریں تا کہ قیامت اشرار الناس پر نہیں بلکہ اخیار الناس پر آئے اور ہمیشہ آپ لوگ دین کی خدمت میں لگے رہیں۔جو خدا تقدیریں بناتا ہے وہ اپنی تقدیروں کو بدل بھی سکتا ہے۔اگر آپ لوگ اپنے اندر ہمیشہ نیکی کی روح قائم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے فعل کے ساتھ اپنی تقدیر کو بھی بدل دے گا۔اور قیامت تک نیک لوگ دنیا میں قائم رہیں گے جو خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے رہیں گے۔پس کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو قیامت تک لئے چلا جائے اور اخیار کی صورت میں لے جائے نہ کہ اشرار کی صورت میں۔اور ہر سال جو ہماری جماعت پر آئے وہ زیادہ سے زیادہ نیک لوگوں کی تعداد ہمارے اندر پیدا کرے اور ہماری قربانیوں کے معیار کو اور بھی اونچا کر دے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ آپ کو اس تحریک میں پورے جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لینے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ آپ کو خدمت دین کی توفیق عطا فرماتا رہے۔اَللَّهُمَّ امِيْنَ ( الفضل یکم نومبر 1960ء)