انوارالعلوم (جلد 26) — Page 518
انوار العلوم جلد 26 518 اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو۔اسلام کی آواز پہنچا سکیں۔اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے تو یقیناً اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے ، بڑے بڑے علماء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے صوفیاء پیدا ہوں گے ، بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے مگر یاد رکھو خدا تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے بعد میں آنے والوں کو وہ میسر نہیں آسکتا۔جیسے عالم اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کو بھی ملا وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ان بادشاہوں اور نوجوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہ ہی کے حصہ میں آئی۔باقی لوگوں کو تو صرف چھلکا ہی ملا۔یہ تقسیم بالکل ویسی ہی تھی جیسے غزوہ حنین کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں میں اموالِ غنیمت تقسیم کئے تو ایک انصاری نوجوان نے بیوقوفی سے یہ فقرہ کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والوں کو دے دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تمام انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مالِ غنیمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو دے دیا ہے۔انصار نہایت مخلص اور فدائی انسان تھے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر اُن کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم ایسا نہیں کہتے۔ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے غلطی سے یہ بات کہہ دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار! اگر تم چاہتے تو تم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے فتح و کامرانی بخشی اور اسے عزت کے ساتھ اپنے وطن میں واپس لایا۔مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور مکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آ گیا تو مکہ والے تو بکریوں اور بھیڑوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور انصار خدا کے رسول کو اپنے گھر میں لے آئے۔4۔اسی طرح بیشک صحابہ کے بعد آنے والوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں ، حکومتوں پر انہیں