انوارالعلوم (جلد 26) — Page 513
انوار العلوم جلد 26 513 اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو۔۔کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی اور مسلمان صرف تین ہزار تھے۔جب عبد اللہ بن رواحہ دشمن کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے تو لڑتے لڑتے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔اس پر انہوں نے جھٹ اپنے دوسرے ہاتھ میں جھنڈے کو تھام لیا۔اور جب ان کا دوسرا ہا تھ بھی کٹ گیا تو انہوں نے جھنڈے کو اپنی رانوں میں دبا لیا۔اس کے بعد کفار نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی۔اُس وقت چونکہ وہ مجبور تھے اور جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں جھنڈے کو وہ سنبھال کر رکھ سکتے اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ اب میں جھنڈے کو نہیں سنبھال سکتا اس لئے دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔یہ سن کر حضرت خالد بن ولید آگے بڑھے اور انہوں نے جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔یہ ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ ان تمام واقعات کی خبر دے دی اور آپ نے صحابہ کو بتایا کہ جب اسلامی لشکر کفار کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور زیڈ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے تو زیڈ کی جگہ جعفر کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔اور جب جعفر شہید ہو گئے تو عبد اللہ بن رواحہ کو کمانڈر مقرر کیا گیا اور جب عبد اللہ بن رواحہ بھی شہید ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اب وہ جھنڈ ا سَيْفَ مِنْ سُيُوفِ الله یعنی حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں آگیا ہے اور وہ اسلامی لشکر کو حفاظت کے ساتھ واپس لا رہے ہیں 3۔اب دیکھو حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی قربانی کس قدر عظیم الشان تھی عام طور پر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے یا اُس کی ایک انگلی پر بھی زخم آجائے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے۔مگر ان کا پہلے ایک بازو کٹ گیا تو انہوں نے اپنے دوسرے بازو میں جھنڈے کو پکڑ لیا اور جب دوسرا بازو بھی کٹ گیا تو اُسے رانوں میں تھام لیا۔اور جب ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو اُس وقت انہوں نے آواز دی کہ دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔اس فدائیت اور جاں نثاری کی کیا وجہ تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے دلوں میں ا یقین رکھتے تھے کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم الشان کام کے لئے پیدا کیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے لئے اپنی موت تک جدو جہد کرتے چلے جائیں۔جب یہ یقین اور ایمان کسی جماعت کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے لئے ہر قسم کی مشکلات کو دیوانہ وار