انوارالعلوم (جلد 26) — Page 505
انوار العلوم جلد 26 505 افتتاحی خطاب جلسه سالانه 1960 ء کی حالت میں تھے کہ ایک اور صحابی ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دے دیں۔وہ کہنے لگے میرے عزیزوں کو میری طرف سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنا اور انہیں یہ پیغام دے دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے۔اب ہم اس دنیا سے جار ہے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد کر رہے ہیں۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنی جانیں قربان کر دو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آنے دو 1۔آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسدِ عصری کے ساتھ اس دنیا میں موجود نہیں مگر اُن کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔اُن کا لایا ہوا قرآن آج بھی موجود ہے۔اور وہ دین ہم سے اُنہی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن قربانیوں کا صحابہؓ سے مطالبہ کیا گیا تھا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنی جانیں دے دیں مگر اسلام کے جھنڈے کو کبھی نیچا نہ ہونے دیں اور ہم اپنی اولا د در اولاد سے بھی یہ کہتے چلے جائیں کہ اپنی ذمہ داریوں کومت بھولنا ورنہ خدا کے حضور تم جوابدہ ہو گے۔حقیقت یہ ہے کہ سلسلہ کی عظمت کو قائم رکھنا اور سلسلہ کی اشاعت میں حصہ لینا کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ نَسْلاً بَعْدَ نَسلِ ایک لمبے زمانہ سے تعلق رکھنے والا کام ہے اسی وجہ سے میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اپنے اپنے خاندانوں میں سے کم سے کم ایک ایک فرد کو دین کے لئے وقف کرو۔تا کہ تمہارا خاندان اس نیکی سے محروم نہ رہے اور تم سب اس ثواب میں دائمی طور پر شریک ہو جاؤ۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ یہ ایک نہایت ہی ضروری امر ہے جس پر ہماری جماعتی اور مذہبی حیات کا انحصار ہے۔میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے صرف اپنے اندر ہی ایمان پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگلی نسل کو بھی دین کا جاں خار خادم بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔دنیا میں کوئی شخص یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ تو عالم بن جائے مگر اُس کا بیٹا جاہل رہے یا وہ تو امیر بن جائے مگر اُس کا لڑکا کنگال رہے۔پھر نہ معلوم لوگ اپنی اگلی نسل کو