انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 439

انوار العلوم جلد 26 439 سیر روحانی (12) ہندوؤں کی طرح اُن میں بھی ایک رواج تھا کہ یہودیوں کی ایک قدیم رسم جب وہ نہیں جاتے تو بت سامنے رکھ لیتے۔میں نے خود دیکھا ہے میرے ماموں میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم کی شادی تھی اُن کے خسر سکندر راؤ میں رہتے تھے، میں بھی شادی میں اُن کے ساتھ گیا تھا۔وہاں ہندوؤں کا کوئی جلوس نکل رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ ہندوؤں نے ایک رتھ میں بُت رکھا ہوا ہے اور سب لوگ اُس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔یہودی بھی چونکہ بُت پرست قوم سے نکل کر آئے تھے اس لئے اُن میں بھی غالباً یہی دستور تھا کہ وہ بُت کو چلتے وقت آگے آگے رکھتے تھے اور اس طرح خیال کرتے تھے کہ اُن پر عذاب نازل نہیں ہوگا۔چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیر ہوئی تو بائبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس گئے اور انہوں نے سونے کا ایک بچھڑا ڈھال کر بنایا اور کہا اے بنی اسرائیل ! یہی تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر سے نکال کر لایا تھا۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ۔حالانکہ حضرت ہارون علیہ السلام خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور وہ اتنا بڑا شرک کر ہی نہیں سکتے تھے۔پھر وہ اس بات کو بھی جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تھے تو آپ نے فرعون سے بحث کی تھی کہ میں اپنی قوم کو بتوں کی پرستش سے ہٹا کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف لانا چاہتا ہوں۔اتنے بڑے واقعہ کی موجودگی میں وہ یہ کہہ بھی کس طرح سکتے تھے کہ یہی وہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں ملک مصر سے نکال کر لایا تھا۔پھر لکھا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑے کیلئے قربان گاہ بنانا چھڑے کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور انہیں کہا کہ یہ بچھڑا ہی تمہارا خدا ہے۔بائبل کے الفاظ اس بارہ میں یہ ہیں :- یہ دیکھ کر ہارون نے اُس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اُس نے اعلان کر دیا کہ گل خداوند کے لئے عید ہوگی۔اور دوسرے دن صبح سویرے اُٹھ کر انہوں نے قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزرا نیں۔پھر اُن لوگوں نے بیٹھ کر کھایا پیا اور اُٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے۔45