انوارالعلوم (جلد 26) — Page 397
انوار العلوم جلد 26 397 کرنیل کو تفسیر کبیر پڑھنے کے لئے دی۔انہوں نے جب واپس لی تو وہ کہنے لگا مجھے کتاب دے دو اور سو روپیہ لے لو۔چنانچہ وہ کہتے ہیں اُس نے سور و پیہ مجھے دے دیا اور میں نے تفسیر کبیر کے لئے قادیان لکھ دیا۔لیکن مجھے معلوم ہوا کہ تفسیر کبیر کی وہ جلد ختم ہو چکی ہے۔پس ہمارے دوست اگر تبلیغ کے لئے یہ طریق استعمال کریں تو بڑا مؤ ثر ثابت ہو سکتا ہے۔مگر ایسا نہ کریں کہ وہ تفسیر کبیر کی اُن دو جلدوں کا جو ان کے پاس ہیں سوسور و پیہ مجھ سے مانگنا شروع کر دیں۔میں نے پچھلے سال جلسہ پر ذکر کیا تھا کہ پندرہ سال پہلے ایسا ہوا تھا لیکن ایک دوست نے جھٹ اپنی تفسیر مجھے بھیج دی اور کہا کہ ایک سور روپیہ مجھے دے دیں۔میں نے کہا یہ تو پندرہ سال پہلے کی بات ہے اب تو مجھے پتا بھی نہیں کہ وہ صاحب کہاں ہیں۔کہنے لگا کچھ کم روپے دے دیں۔میں نے کہا میں نے تو تفسیر خریدنی نہیں میرے پاس تفسیر موجود ہے۔میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ ایک غیر احمدی افسر پر اس کا اس قد را ثر ہوا تھا کہ اُس نے سو روپیہ دے کر اس کتاب کو خریدنا چاہا۔جاؤ اور عراق سے اُس آدمی کو تلاش کرو شاید وہ آدمی مل جائے اور تفسیر لے لے میں کیوں لوں ؟ بعد میں وہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو لکھتے ہیں کہ کچھ روپیہ ہی مجھے دے دیں۔ساٹھ ہی دے دیں، چالیس ہی دے دیں۔بہر حال جو شخص ان کتابوں کو پڑھتا ہے اُس پر اثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔میں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ اگر کوئی غیر احمدی کتاب خرید کر پڑھنا چاہے تو اُسے نصف قیمت میں دے دو۔بہر حال بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے تفسیر کبیر پڑھی اور بعد میں اس کے متعلق بڑی اچھی رائے کا اظہار کیا۔تفسیر کبیر کا تو ہر ایک کے لئے پڑھنا مشکل ہے لیکن تفسیر صغیر سے تھوڑی سی محنت کے بعد پورا قرآن پڑھا جا سکتا ہے اس لئے اس کی طرف توجہ بہت مفید ہو سکتی ہے۔یہ تبلیغ کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔زبانی تبلیغ کرنے بیٹھو تو بعض اوقات لڑائی ہو جاتی ہے اور فتنہ پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے۔لیکن اگر تم کسی کو کتاب پڑھنے کے لئے دے دو تو وہ گھر میں بیٹھ کر ہی اسے پڑھے گا۔اور اگر وہ گھر میں بیٹھا ہوا وہ کتاب پڑھے گا تو وہ بیوی سے تو نہیں لڑے گا اور نہ تم سے لڑائی کر سکے گا اس لئے یہ طریق بہت مفید ہے۔دوسرے قرآن میں یہ برکت ہے کہ وہ دوسرے پر