انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 268

انوار العلوم جلد 26 268 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1957ء اس کے لئے ملک فضل حسین صاحب کو ہی یا اور کسی دوست کو مقرر کیا جائے گا۔اب میں نے کتابوں کا ذکر کر دیا ہے۔1953ء کے فسادات کا پس منظر چھپ کر تیار ہے اور یہ تاریخ احمدیت کی ایک کڑی ہے۔تبویب مسند احمد بن حنبل کی ایک جلد بھی چھپ کر تیار ہوگئی ہے اور اس میں ایسی اصلاحات مد نظر رکھی گئی ہیں کہ مصر سے جو تبویب شائع ہوئی ہے اور جس کے لئے سعودی عرب کی طرف سے دس ہزار پونڈ دیا گیا تھا وہ بھی اس کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہے۔ہماری اس کتاب کی قیمت چھ روپیہ ہے اور غالباً یہ کام میں جلدوں میں مکمل ہوگا اور اس طرح پوری کتاب کی قیمت 120 روپیہ ہو گی۔لیکن اس کے مقابلہ میں مصر کی شائع شدہ تبویب مسند احمد بن حنبل کی قیمت بہت زیادہ ہے۔اس کی ایک جلد کی قیمت قریباً پندرہ روپے ہے اور اس کی چودہ جلدیں ہیں۔یہ کتاب ٹائپ میں چھی ہے اور اورینٹل ریلیجن اینڈ پبلشنگ کارپوریشن کے پریس میں شائع ہوئی ہے۔اس تبویب میں وہ ساری حدیثیں الگ کر دی گئی ہیں جو امام احمد بن حنبل کے بعض کمزور شاگردوں نے ان کی مسند میں شامل کر دی تھیں۔اسی طرح اگر کوئی حدیث کسی اور جگہ آ گئی ہو مثلاً امام بخاری نے اُس کا ذکر اپنی صحیح میں کر دیا ہو یا کسی اور کتاب میں درج ہو تو اُس کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔غرض ہماری یہ کوشش مصری کوشش سے دس بیس گنا زیادہ فائدہ بخش ہے اور قیمت اس سے بہت کم ہے۔اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس جلسہ کو مبارک کرے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے ہمارا پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں ہوا تھا اور اب 1957ء ہے گویا ہمارا یہ جلسہ ستاسٹھواں جلسہ ہے مگر الفضل کے اعلان میں اسے گیارھواں جلسہ سالانہ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ یہ گیارھواں نہیں بلکہ ستاسٹھواں جلسہ سالانہ ہے۔56 سال کو اتنی جلدی اڑا دینا کوئی عقل کی بات نہیں۔لوگ تو فخر کیا کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان نے فلاں جگہ پر اتنے زیادہ عرصہ تک حکومت کی ہے لیکن الفضل کے اعلان کی ر معیار عزت یہ ہے کہ ہم نے اتنے کم جلسے کئے ہیں حالانکہ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ قادیان کے جلسوں کو شامل کر کے اوپر موٹے حروف میں 67 واں جلسہ“ لکھتے اور رو سے