انوارالعلوم (جلد 26) — Page 254
انوار العلوم جلد 26 254 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔ایک عورت تبلیغ کا کام کر رہی تھی۔چینیوں نے حملہ کر کے اُس عورت کو مار ڈالا اور اُس کے گوشت کے کباب کھائے۔جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو انگلستان میں اعلان کیا گیا کہ چین میں ہماری ایک عورت مبلغ تھی چینیوں نے اسے مار دیا ہے اور اُس کے گوشت کے کباب بنا کر کھائے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس کی جگہ کام کرنے کے لئے کوئی اور عورت اپنا نام پیش کرے۔شام تک ہیں ہزار عورتوں کی طرف سے تار آ گئے کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں۔ہمیں وہاں بھجوا دیا جائے۔یہ نمونہ تو ہم میں ابھی نظر نہیں آتا بلکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ اس کام میں عیسائی ہم پر فوقیت رکھتے ہیں شاید اس لئے کہ اُن کو انیس سو سال ہو گئے ہیں اور ہمیں ابھی اتنے سال نہیں ہوئے مگر بہر حال جوانی میں زیادہ جوش ہونا چاہیے۔ہم امید کرتے ہیں کہ عنقریب ہماری عورتیں ان سے بھی زیادہ جوش دکھلائیں گی۔بعض مثالیں بے شک ہماری جماعت میں اچھی ملتی ہیں مثلاً ایک دفعہ ایک غیر ملکی طالب علم یہاں آیا۔اس نے کہا کہ میری شادی یہاں کرا دیں۔میں نے کسی خطبہ یا مجلس میں ذکر کیا کہ اس طرح ایک غیر ملکی کی خواہش ہے تو ایک لڑکی آئی اور اُس نے کہا کہ میں تیار ہوں آپ میرا نکاح اس غیر ملکی سے کردیں۔اس کے بعد اُس کی بہن آئی اور میری بیوی سے کہنے لگی کہ میری بہن تو منہ پھٹ ہے وہ خود آ کر کہہ گئی ہے لیکن میں نے ابھی تک اس کا اظہار نہیں کیا تھا حالانکہ میں تین چار سال سے اس بات کے لئے تیار ہوں کہ میری کسی غیر ملکی سے شادی کر کے مجھے باہر بھیج دیا جائے۔آخر ان میں سے ایک بہن کی اُس سے شادی ہو گئی اور اب وہ دتی میں ہے۔ابھی کل ہی اُس کے ہاں لڑکی پیدا ہونے کی خبر چھپی ہے۔صالح الشبیبی ہمارے ایک غیر ملکی احمدی نوجوان ہیں۔پچھلے سال ان سے اس کی شادی ہوئی اور اب ان کے ہاں دتی میں لڑکی پیدا ہوئی ہے۔تو اس قسم کی مثالیں تو احمدیوں میں پائی جاتی ہیں۔لیکن یہ زیادہ شاندار مثال ہے کہ ایک عورت ماری گئی اور اُس کے کباب کھائے گئے اور جب اخباروں میں اعلان کیا گیا کہ اُس کی جگہ لینے کے لئے اور عورتیں اپنے آپ کو پیش کریں تو شام تک ہیں ہزار عورتوں کی تاریں آگئیں کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں۔بہر حال اس سے ملتی جلتی بعض کمزور مثالیں تو ہم میں پائی