انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 208

انوار العلوم جلد 26 208 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔ایک ایسا زلزلہ پیدا ہوا جو آدم سے لے کر اُس وقت تک نہیں آیا تھا۔جیسا کہ انہی آیات ہے۔میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں اس زلزلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ تُو اُس دن کو یاد کر جس دن یہ زمین کانپ اٹھے گی اور پھر یہ زمین صرف یک دفعہ نہیں ہلے گی بلکہ بار بار ہلتی چلی جائے گی چنانچہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وَ التَّزِعَتِ غَرْقًا کی مصداق قوم عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے سرزمین عرب کو ہلانے کا فیصلہ کیا تو بدر کی جنگ ہوئی ، اُحد کی جنگ ہوئی ، احزاب کی جنگ ہوئی اور ان کے درمیان اور بیسیوں جنگیں لڑی گئیں اور آخر مکہ فتح ہو گیا۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمین ایک دفعہ نہیں ہلی بلکہ ہلتی چلی گئی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ مجھ پر ایسا بوجھ لاد دیا گیا ہے جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں۔اس لئے وہ کانپتی تھی اور بار بار کا نپتی تھی۔یہ زمانہ بھی جس میں سے ہم گزر رہے ہیں ایسا ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی خدمت کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد کیا ہے اور یہ کام اتنا عظیم الشان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سپرد کرنی چاہی مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا 2 اس جگہ آئین کے معنے محض انکار کے نہیں بلکہ ایسی گھبراہٹ کے ہیں جس میں اگر انسان کی اپنی مرضی کا دخل ہو تو وہ ضرور انکار کر دے۔غرض وہی چیز جس کے اٹھانے سے زمین و آسمان اور پہاڑوں نے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا اب اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے ماتحت آپ کے سپرد کی گئی ہے۔اور جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والا ایک شخص اس زمانہ میں آپ کا بروز کہلایا ہے اسی طرح آپ کے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت آپ کے صحابہ کی بروز کہلائی ہے۔جس طرح دنیا کی حالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی اُسی طرح اس زمانہ میں بھی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی زمین و آسمان اور پہاڑوں نے آپ کی تعلیم کا حامل بننے سے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی جو بوجھ آ -