انوارالعلوم (جلد 26) — Page 200
انوار العلوم جلد 26 200 مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کراچی کے 580 خدام میں سے صرف 46 خدام ایسے ہیں جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا۔باقی سب اس میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ بے شک ایک خوشی کی بات ہے لیکن خدمت سلسلہ کا کام ایسا ہے کہ 46 کی نفی بھی بہت بُری لگتی ہے۔انہیں چاہیے تھا کہ ان کے اندر خدمت دین کا ایسا احساس ہوتا کہ ایک کی بھی نفی نہ ہوتی۔46 کی نفی بتاتی ہے کہ ابھی ہم نے جماعت کے بہت سے افراد کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانی ہے۔اس وقت ہماری جماعت دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے 580 خدام میں سے 46 کا کمزور ہونا بتاتا ہے کہ قریباً دوسو میں سے ایک فردا ایسا ہے جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہا۔اب اگر دوسو کو چھیالیس سے ضرب دی جائے تو 92 سو بنتا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہماری جماعت میں نو ہزار دو سو آدمی ایسا ہے جو چندہ نہیں دے رہا۔اور اگر وہ واقع میں اس طرف توجہ نہیں کر رہا تو یہ کتنی خطر ناک بات ہے۔اگر یہ نو ہزار دو سو آدمی بھی حصہ لینے لگے تو یورپ میں کئی مسجدیں تعمیر ہو جائیں اور کئی نئے مشن کھل جائیں۔مگر اس کا علاج بھی دعا ہی ہے۔یہ میں مان نہیں سکتا کہ جماعت میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو تبلیغ کی ضرورت نہیں سمجھتا۔اور اگر وہ ضرورت کو سمجھتے ہوئے بھی چندہ میں حصہ نہیں لیتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور دل کا زنگ دور کرنے کے لئے بھی دعا کی ہی ضرورت ہے۔پس دعاؤں میں شامل کر کے کمزور خدام کی غیرت کو بھڑ کا یا جائے۔ہم نے دیکھا ہے بعض ایسے آدمی جو چندہ دینے میں بڑے ست تھے جب انہیں سمجھایا گیا تو وہ بڑی بڑی قربانی کرنے والے بن گئے۔ایک دوست جو اب بہت مخلص ہیں اور جنہیں اپنی پرانی بات کا ذکر بہت بُر الگتا ہے اور کہتے ہیں کہ کسی نے آپ کے پاس غلط رپورٹ کر دی تھی اُن کے متعلق شروع میں مجھے پتا لگا کہ وہ سلسلہ کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔اس پر میں نے مولوی شیر علی صاحب اور حافظ روشن علی صاحب کو ان کے پاس بھیجا۔انہوں نے سنایا کہ ہم نے ان کو کہا کہ بیعت کر لیجئے۔وہ کہنے لگے بیعت تو میں کرلوں گا مگر باقاعدہ چندہ نہیں دوں گا۔میں نے کہا تھوڑا تھوڑا چندہ ہی دینا شروع کر دیں۔پھر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آپ خود ہی بڑھا دیں گے۔چنانچہ انہوں نے