انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 189

انوار العلوم جلد 26 189 یوم مصلح موعود پر جماعت احمدیہ کراچی۔چھوٹے سے چھوٹا گاؤں ہی دکھا دیں جس میں انہوں نے اپنا مشن قائم کیا ہو۔صرف پکی پکائی کھانے کا شوق ہے جو ان لوگوں کے عمل سے ظاہر ہوا۔لیکن بات وہی ہو رہی ہے جو خدا نے چاہی تھی اور جو خدا کے منشاء کے ماتحت دنیا میں قائم کی گئی ہے۔اس پیشگوئی کے متعلق ربوہ میں جب بھی مجھ سے علماء نے پوچھا میں نے اُن سے یہی کہا کہ تم سارے جھگڑے جانے دو تم پیغامیوں سے صرف یہ پوچھو کہ آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں کسی بیٹے کی خبر تھی یا نہیں؟ یہ بحث نہ کرو کہ میری تھی یا کسی اور کی۔تم صرف یہ پوچھو کہ آیا کسی بیٹے کی خبر دی گئی تھی یا نہیں دی گئی تھی ؟ اور پھر کیا تمہارے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بھی بیٹا ہے؟ اگر اس بیٹے سے جسمانی بیٹا مراد لو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بھی بیٹا تم سے نہیں ملا۔اور اگر روحانی بیٹا مرادلو تو اُن کی بھی اسی طرف اکثریت ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے کوئی معنے تو کرنے پڑیں گے۔یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس سے جسمانی بیٹا مراد ہے اور وہ فلاں نہیں بلکہ فلاں بیٹا ہے مگر اس صورت میں بھی کسی نہ کسی کو اس پیشگوئی کا مصداق ماننا پڑے گا۔پس ہم کہتے ہیں کہ اگر ظاہری بیٹوں میں سے کوئی بیٹا مراد ہے تو تم کوئی بیٹا ہی مان لو مگر وہ سارے کے سارے جماعت مبائعین میں ہی شامل ہیں تمہارے ساتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ بیٹا جو آپ کی زندگی میں آپ پر ایمان نہیں لایا تھا وہ بھی حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد مبائعین میں ہی شامل ہوا۔غیر مبائعین کی طرف نہیں گیا۔اور اگر کہو کہ اس سے روحانی بیٹے مراد ہیں تو تم یہ دیکھو که ان روحانی بیٹوں کی اکثریت کس طرف ہے؟ آخر روحانی بیٹے ایک دو تو نہیں ہو سکتے لا ز ما ہمیں یہی دیکھنا پڑے گا کہ جو لوگ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ان کی اکثریت کس طرف ہے۔سو وہ اکثریت بھی جماعت مبائعین کو ہی حاصل ہے۔چنانچہ اُن کی شدید مخالفت اور بڑے بڑے آدمیوں کے رُعب اور اثر کے باوجود اکثر لوگ اسی طرف آئے اور پھر ہمیشہ خدا تعالیٰ نے ہماری ہی تائید فرمائی۔چنانچہ جب یہ فتنہ اٹھا تو مری میں ایک کر نیل مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو یہ بتا دینا