انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxiv
انوار العلوم جلد 26 13 تعارف کتب نیز فرمایا کہ میں نے تاریخ احمدیت شائع کرنے کو کہا تھا نہ کہ فسادات 1953ء کا پس منظر۔ہماری تاریخ کا آغاز 1880 ء سے ہوتا ہے۔حضور نے مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس عرصہ میں ہم اتنی دشمنیوں سے گزرے ہیں کہ گویا ہم نے تلواروں کے نیچے اپنا سر رکھا اور اس طرح 69 سال گزار دیئے۔اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ایمانوں میں روز افزوں زیادتی ہوئی اور ہوتی چلی جارہی ہے۔چنانچہ آج سے ایک سال قبل ایک احمدی میں جتنی طاقت تھی آج اُس سے دس گنا زیادہ طاقت اُس میں موجود ہے۔اگر ایک سال پہلے ایک احمدی دو مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا تھا تو آج ایک احمدی ہیں مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اب تو ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں جو مردوں سے زیادہ دلیر ہیں" وو بعد ازاں حضور نے جماعت احمدیہ کی بعض احمدی خواتین کی قربانیوں کا تفصیل سے ذکر فر مایا اور اخیر پر جماعت کی مالی قربانی کے بارہ میں اپنی امید یوں ظاہر فرمائی کہ " ہم تو اس امید میں ہیں کہ امریکہ، روس، انگلینڈ، جرمنی اور فرانس کی آمد (incom) کو اگر ملا لیا جائے تب بھی صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی آمد اس سے زیادہ ہو تا کہ یورپ اور امریکہ میں ہم پانچ چھ ہزار مساجد سالا نہ تعمیر کر سکیں“ (10) متفرق امور حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ 1957 ء کے درمیانی دن مورخہ 27 دسمبر کو جو تاریخی خطاب فرمایا وہ متفرق امور پر مشتمل تھا۔جس میں گزشتہ سال کے جماعت کے کاموں پر تبصرہ اور خوشنودی کا اظہار تھا اور آپ نے مستقبل کے پروگرامز بھی بیان فرمائے جس میں سے سب سے اہم ترین وقف جدید کا آغاز تھا۔جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔" میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال