انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 149

نوار العلوم جلد 26 149 سیر روحانی (10) ایک بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ گل میں نے ریویو آف ریلیجنز کے متعلق تحریک کی تھی۔میں چاہتا ہوں کہ اس کو جلدی منظم صورت میں کر دیا جائے۔گل میں نے ریویو والوں کو کہا تھا کہ وہ تیرہ سو کی بجائے تینتیس سو چھپوا نا شروع کریں۔دوسو روپیہ کلکتہ کے ایک دوست سیٹھ محمد صدیق صاحب نے سو کاپی کے لئے دینے کا وعدہ کیا تھا۔دو ہزار انجمن لے رہی ہے۔دو ہزار ایک سو ہو گیا۔گیارہ سو کا میں وعدہ کرتا ہوں۔گیارہ سو پر چہ کا دو روپے کے حساب سے بائیس سو بنتا ہے۔سو میں وعدہ کرتا ہوں کہ انْشَاءَ اللہ اس سال میں یہ بائیس سو دے دوں گا اور پھر جماعت میں تحریک کر کے کوشش کروں گا کہ چھ مہینہ تک اس کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ جائے۔مگر ریویو آف ریلیجنز کے افسروں کو چاہئے کہ وہ ایک منیجر فروخت مقرر کریں۔ہمارے ہاں طریق یہ ہے کہ اللہ تو کل پر کام ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ ہنسا کرتے تھے کہ مسلمان بھی عجیب ہے۔مسلمان کے نزدیک اللہ کا نام ہے صفر۔اور اس کی دلیل یہ دیا کرتے تھے کہ جب کسی مسلمان سے پوچھو کہ تمہارے گھر میں کیا ہے تو کہتا ہے اللہ ہی اللہ ہے۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہے۔تو ہمارے لوگ بھی جب کام کرتے ہیں بس اللہ ہی اللہ کرتے ہیں یعنی کام کوئی نہیں کرنا بس اللہ پر ہی رہنا ہے یہ طریق غلط ہے۔امریکہ سے ایک رسالہ ریڈرز ڈائجسٹ آتا ہے۔قریباً دس یا بارہ ملین یعنی سوا کروڑ چھپتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم انتظام کریں تو ہمارا رسالہ نہ پھیل سکے جبکہ ہم اس کے سب سٹی چیوٹ (Substitute) بھی دیں اور اپنے پاس سے رقم دیں اور تھوڑی قیمت پر لوگ لینے کے لئے تیار ہو جائیں۔تو اس کے لئے ایک بیچنے والا منیجر ہونا چاہیے جو اس بات کی کوشش کرے کہ چھ مہینہ کے اندر اندر پانچ ہزار تک خریداری ہو جائے۔اور سال کے اندر اندر اس کی دس ہزار خریداری ہو جائے اور پھر بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو خواہش تھی اس سے دُگنی تگنی چو گنی پانچ گنی دس گنی میں گئی سو گنی پوری کرنے کے ہم قابل ہو جائیں۔پس ادھر تو جماعتیں اپنی جگہوں پر جاکے دوستوں میں تحریک کر کے وعدہ کریں کہ ہم دو روپیہ فی رسالہ کے حساب سے اتنے