انوارالعلوم (جلد 26) — Page 27
انوار العلوم جلد 26 27 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔۔۔۔۔یہ خط بطور اطلاع گل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے۔الخ یہ خط ہے جو انہوں نے شائع کیا۔اس میں مولوی محمد علی صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ کا بھی انہوں نے ذکر کیا ہے کہ معتمدین میں سے وہ اس موقع پر موجود تھے۔اور انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی۔سو ان لوگوں نے اس زمانہ میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ جو قدرت ثانیہ کی پیشگوئی تھی یہ خلافت " کے متعلق تھی کیونکہ الوصیۃ میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر نہیں کہ تم قدرت ثانیہ کے لئے دعائیں کرتے رہو۔اور خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مطابق حکم الوصیۃ ہم نے بیعت کی۔پس خواجہ صاحب کا اپنا اقرار موجود ہے کہ الوصیۃ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ ” خلافت کے متعلق تھی اور قدرت ثانیہ سے مراد" خلافت " ہی ہے۔پس حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور ان کو کے ساتھیوں کا بیعت کرنا اور اسی طرح میرا اور تمام خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام جماعت احمدیہ نے پالا تفاق خلافتِ احمدیہ کا اقرار کر لیا۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کے تمام خاندان اور جماعت احمدیہ کے ننانوے فیصدی افراد کا میرے ہاتھ پر بیعت کر لینا اس بات کا مزید ثبوت ہوا کہ جماعت احمد یہ اس بات پر متفق ہے کہ خلافت احمدیہ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔چونکہ اس وقت حضرت خلیفہ اول کے خاندان میں سے آئندہ انتخاب خلافت بعض نے اور اُن کے دوستوں نے خلافتِ احمدیہ کا سوال کے متعلق طریق کار پھر اُٹھایا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مضمون کے متعلق پھر کچھ روشنی ڈالوں اور جماعت کے سامنے ایسی تجاویز پیش کروں جن سے خلافت احمد یہ شرارتوں سے محفوظ ہو جائے۔میں نے اس سے پہلے جماعت کے دوستوں کے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہ وقت کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کی مجلس شوری دوسرا خلیفہ چنے۔مگر موجودہ فتنہ نے بتا دیا ہے کہ یہ طریق درست نہیں۔کیونکہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہم خلیفہ ثانی کے مرنے کے بعد بیعت میاں عبدالمنان کی کریں گے اور