انوارالعلوم (جلد 26) — Page 558
انوار العلوم جلد 26 558 جلسہ سالانہ 1962ء کے افتتاحی و اختتام جلسہ سالانہ 1962ء کے اختتامی اجلاس کیلئے پیغام یہ پیغام 28 دسمبر 1962ء کو جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس میں حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا ) اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادران جماعت احمدیہ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب 1908ء میں انتقال ہوا تو اُس وقت میری عمر صرف ہیں سال کے قریب تھی۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ جماعت کے بعض دوستوں کے قدم لڑکھڑا گئے اور اُن کی زبانوں سے اس قسم کے الفاظ نکلے کہ ابھی تو بعض پیشگوئیاں پوری ہونے والی تھیں مگر آپ کی وفات ہوگئی ہے۔اب ہمارے سلسلہ کا کیا بنے گا؟ جب میں نے یہ الفاظ سنے تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک جوش پیدا کیا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے اُسی کی قسم کھا کر یہ عہد کیا کہ اے میرے رب! اگر ساری جماعت بھی اس ابتلاء کی وجہ سے کسی فتنہ میں پڑ جائے تب بھی میں اکیلا اس پیغام کو جو تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بھیجا ہے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور اُس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ میں ساری دنیا تک احمدیت کی آواز نہ پہنچا دوں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی