انوارالعلوم (جلد 26) — Page 3
انوار العلوم جلد 26 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 3 افتتاحی تقریر جلسه سالانه سہ سالانہ 1956ء نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء تم خدا کے ہاتھ کا گایا ہوا پودا ہو۔تم بڑھتے چلے جاؤ گے یہاں تک کہ تم زمین کے چاروں طرف پھیل جاؤ گے (فرمودہ 26 دسمبر 1956ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کا بے حد و حساب شکر ہے کہ اس سال پھر اس نے ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم او محمد رسل اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لئے غور کرنے اور قربانی کرنے کا موقع دیا۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا مزید احسان یہ ہے کہ اس دوران میں بعض ایسے حالات پیش آئے کہ دشمن نے خوب خوشیاں منائیں اور بغلیں بجائیں کہ اب احمدیت کا خاتمہ ہو جائے گا، اب احمدیت کی دیواروں کے نیچے سے خود اس کی گندی نالیوں نے اس کی دیواروں کے گرانے کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور احمدیت کی حفاظتی دیوار میں احمدیت کی اپنی نالیوں کی وجہ سے گر جائیں گی۔اور اخباروں نے باقاعدہ شور مچایا کہ خلیفہ ثانی کی جماعت اب اُس سے بغاوت کر رہی ہے۔اب وہ اخبار نویس کہاں ہیں؟ وہ ذرا دیکھیں کہ یہ بغاوت کر رہے ہیں یا عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں؟ اگر دشمنوں میں ذرا بھی تخیم دیانت ہے اور جھوٹ کے گند پر منہ مارنے سے اُن کو ذرا بھی شرم آتی ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بھی اُن کو نسبت حاصل ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے غلاموں کی بھی اتباع کی اُن کو توفیق ہے تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ وہ جماعت آگے سے بہت زیادہ قربانی کرنے پر آمادہ ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ والا جذبہ ان کے اندر موجود ہے جو کہ اُحد کے موقع پر