انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 406

انوار العلوم جلد 26 406 سیر روحانی (12) سارے معاملات میں متحد ہو جانا۔یہ اتحاد عقائد کے حتمی فیصلہ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔جب دینی امور میں اختلاف ہو تو بغیر اس کے کہ عقائد میں اتحاد ہو جائے اتحاد گلتی نہیں ہو سکتا۔اس بات کو انہوں نے بھی تسلیم کیا۔دوسری صورت میں نے یہ بتائی کہ ایک اتحاد جزوی ہوتا ہے اس میں ساری طاقت اور قوت کو کسی ایک جگہ صرف نہیں کیا جا تا بلکہ فریقین الگ الگ بھی رہتے ہیں اور مشترک مقاصد میں متحد بھی ہو جاتے ہیں۔مخصوص عقائد کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے لیکن جن امور میں اتحاد ہوتا ہے اُن میں مل جاتے ہیں۔اس کے متعلق میں نے انہیں کہا کہ پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ سخت کلامی کو چھوڑ دیا جائے اور جواباً بھی کوئی ایسا کلمہ اپنی تحریرات میں استعمال نہ کیا جائے جس سے کسی پر ادنیٰ سے ادنی حملہ بھی ہوتا ہو۔جب یہ ہو جائے تو پھر متحدہ امور میں ملنے کے لئے طبائع راغب ہوسکتی ہیں۔جب یہی امور میں نے مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور خان بہادر دلاور خان صاحب کے سامنے بھی بیان کئے تو انہوں نے بغیر کسی اختلاف کے ان امور سے اتفاق کیا اور مولوی غلام حسن خان صاحب نے کہا میں سمجھتا ہوں اب صلح ہو جائے گی۔آپ مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کریں اور مولوی صاحب آپ کی دعوت کریں۔چنانچہ اس تحریک کے مطابق میں نے مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کر دی اور وہ میرے ہاں آگئے اور پھر انہوں نے میری دعوت کی اور میں اُن کے ہاں چلا گیا۔اس کے بعد میں نے ایک اعلان لکھا جس میں میں نے تمام ایڈیٹر ان و نامہ نگاران اور مصنفین سلسلہ کو توجہ دلائی کہ خواہ ایسے حالات بھی پیش آجائیں جن میں فریق لاہور کے متعلق الزامی جواب نہ دینے سے نقصان پہنچنے کا امکان ہو تب بھی آئندہ تین ماہ تک انہیں کوئی الزامی جواب نہ دیا جائے۔اور ان کے خلاف اخبار میں کسی قسم کا سخت لفظ استعمال نہ کیا جائے۔اور نہ کوئی ایسا کلمہ استعمال کیا جائے جس سے کسی پر ادنیٰ سے ادنی حملہ بھی ہوتا ہو۔اور میں نے لکھا کہ اگر دوسرے فریق کا رویہ درست رہا تو بعد میں اس اعلان کی مدت کو بڑھا دیا جائے گا۔مولوی غلام حسن خان صاحب یہ اعلان مولوی محمد علی صاحب کے پاس لے گئے اور انہوں نے اس اعلان کو پسند کیا۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے بھی ایک اعلان لکھا اور