انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 358

انوار العلوم جلد 26 358 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب ہوئی تو آپ باہر نکل آئے اور اپنی زبان باہر نکال لی اُس پر بارش کا ایک قطرہ پڑا تو آپ نے فرمایا یہ خدا کی رحمت کا تازہ نشان ہے 2ے تو قرآن کریم تو الگ رہا آپ نے بارش کے ایک قطرہ کو بھی خدا تعالیٰ کا تازہ نشان قرار دیا۔اب اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی کشف ہو جاتا ہے یا کوئی الہام ہو جاتا ہے تو وہ تو یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا تازہ نشان ہے پھر وہ تحدیث نعمت کیوں نہ کرے۔تحدیث نعمت بھی خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریق ہے۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اب تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کا وقت آ گیا ہے۔ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور ہم نے تمام غیر ممالک میں مساجد بنانی ہیں۔اس وقت ہمارے ملک کی ایکسچینج کی حالت پوری طرح مضبوط نہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ فضل کرتا رہا ہے اور ہمارے کام چلتے رہے ہیں۔کیونکہ ہماری باہر کی بعض جماعتیں اب مضبوط ہو گئی ہیں۔مثلاً افریقہ کی جماعتیں وغیرہ۔اور وہ پاکستان کے قوانین کے ماتحت نہیں اس لئے ان لوگوں نے مساجد کی خاطر جو جماعت کو پونڈ اور ڈالر دیئے ہیں اُن سے کسی حد تک کام چلتا رہا ہے۔مگر وہ جماعتیں ابھی کم ہیں وہ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ان کا بوجھ بٹانے کا طریق یہی ہے کہ یہاں کا بوجھ یہاں کی جماعتیں اٹھا لیں اور اُن کو اس بوجھ سے فارغ کر دیا جائے تاکہ وہ غیر ملکوں میں مسجد میں بنا ئیں۔امریکہ میں عام طور پر حبشی لوگ مسلمان ہیں اور حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی سمجھ کم ہوتی ہے۔لیکن امریکہ میں ایک مسجد بنی ہے جس کے لئے ایک حبشی مرد اور اس کی بیوی نے اپنا مکان اور جائیداد وقف کر دی تھی اور پھر انہوں نے کچھ اور روپیہ بھی دیا۔اسی طرح کچھ چندہ دوسرے لوگوں نے بھی دیا بہر حال وہ مسجد بن گئی ہے۔اگر امریکہ کے حبشی لوگ جو اسلام سے بہت دور رہے ہیں اور اب قریب عرصہ میں اسلام میں داخل ہوئے ہیں انہیں اتنی تو فیق مل گئی ہے کہ وہ مساجد کے لئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیں تو کیا وجہ ہے کہ جو پرانے مسلمان چلے آتے ہیں وہ یہ کام نہ کریں۔مغربی افریقہ میں بھی روپیہ بہت ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہمارے کچھ چیفس ایسے ہیں جن کی زمینوں میں ہیروں اور سونے