انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 349

انوار العلوم جلد 26 349 سیر روحانی (11) غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے اور لوگوں کو یہ نہیں کہتے کہ جب کبھی غرباء کو کوئی ضرورت ہو تو اُن کی ضرورت کو پورا کر دیا کرو۔اسی طرح گھر میں سے کبھی ہنڈیا، کبھی کڑ چھا، کبھی چمٹا، کبھی پھکنی ایسی ہی عام استعمال میں آنے والی چیزیں انہیں دیتے رہا کرو۔تا کہ غریبوں کو سہارا ہو۔امراء کو چاہئے کہ شادی بیاہ کے موقع پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ اصلوة والسلام حضرت اماں جان عارضی طور پر غرباء کو اپنے زیورات دے دیا کریں سے یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو زیور ہیں وہ غریبوں کو بھی پہنے کے لئے دیتی رہا کرو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو زیور استعمال ہوتا رہے اُس پر زکوۃ نہیں۔یعنی زکوۃ کی اصل غرض تو یہ ہے کہ صدقہ ہو۔جب وہ پہنے کی وجہ سے گھسے گا اور غریبوں کو فائدہ پہنچے گا تو اصل غرض پوری ہو جائے گی پس ہمیشہ آپ یہ تحریک فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی غریب گھرانے میں شادی ہو تو اپنے زیور اُن کو دے دیا کرو تا کہ وہ اپنی بہو یا بیٹی کو پہنا دیں اور اِس ذریعہ سے کچھ مدت تک وہ اپنی عزت اور شہرت کو قائم رکھ سکیں۔اب یہ ایک نہایت ہی آسان راستہ ہے کیونکہ زیور کا کچھ دنوں کے لئے کسی کو دے دینا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ایسی چھوٹی بات ہے کہ آسانی سے ہر عورت اس پر عمل کر سکتی ہے۔مگر عمل کرنا مشکل ہے۔عام طور پر عورتیں اتنا کام بھی نہیں کر سکتیں۔اگر وہ اتنا کام ہی کر لیا کریں تو اُن کے ہاتھ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چندے کی تحریک کی اور فرمایا عور تو ! تم بھی چندے دو۔ایک عورت نے اپنا ایک کنگن اُتار کر پھینک دیا اور کہایا رَسُولَ اللہ ! یہ میری طرف سے چندہ ہے۔آپ نے فرمایا۔اے عورت! تیرا دوسرا ہا تھ کہتا ہے کہ مجھے بھی دوزخ سے بچا۔اُس نے فوراً اپنا دوسرا کنگن بھی اُتار کر آپ کی طرف پھینک دیا اور کہایا رَسُولَ اللہ ! یہ بھی لے لیں 40 غرض ان لوگوں میں اس حد تک اخلاص پایا جاتا تھا۔احمدی خواتین کا ایک شاندار نمونہ ہماری عورتوں نے ایک موقع پر جب برلن مسجد بنی تھی ایک مہینے کے اندر اندر