انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 335

انوار العلوم جلد 26 335 سیر روحانی (11) تھا۔اگر میں وہاں رہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مروا دینا تھا۔عربوں میں رواج تھا کہ عورتیں اپنے خاوند کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں۔اس دستور کے مطابق اُس نے کہا۔اے میرے چچا کے بیٹے ! تجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے محمد رسول اللہ بڑی شان کا آدمی ہے تیرے بھاگنے کے بعد میں اُن کے پاس گئی تھی اور میں نے اُن سے پوچھا تھا کہ عکرمہ اگر واپس آ جائے اور آپ اُسے چھوڑ دیں تو یہ زیادہ اچھا ہے یا یہ اچھا ہے کہ وہ کسی غیر ملک میں جا کر دوسروں کی پناہ میں رہے؟ اس پر محمد رسول اللہ نے مجھے کہا کہ نہیں اگر وہ میرے پاس آکر رہے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔میں اُس کے ساتھ حسن سلوک کروں گا۔عکرمہ کہنے لگا خدا کی قسم ! اپنے باپ دادا کے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔اُس نے کہا میں یہ بات بھی پوچھ چکی ہوں۔میں نے خود کہا تھا کہ وہ بڑا غیرت مند ہے اپنے باپ دادا کے مذہب کو بھی نہیں چھوڑے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ بے شک بُت پرستی پر قائم رہے میں اُسے کچھ نہیں کہوں گا۔کہنے لگا۔یہ اتنی بڑی بات ہے کہ مجھے اس پر یقین نہیں آ سکتا۔میں تیرے کہنے پر مکہ میں تو واپس چلا جاتا ہوں مگر میں خود اس بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔اگر انہوں نے تصدیق کی تو پھر میں کہوں گا کہ بات ٹھیک ہے۔عکرمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ چنا نچہ وہ مکہ میں واپس آیا اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اُسے بلا لیا۔جب وہ پہنچا تو کہنے لگا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے اپنی بیوی سے سنا ہے کہ آپ نے یہ کہا تھا کہ اگر عکرمہ واپس آ جائے تو اُسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔کہنے لگا جناب میں نے اپنی بیوی سے یہ بھی سنا ہے کہ اگر میں اپنے دین پر قائم رہنا چاہتا ہوں اور آپ کو نہ مانوں تو پھر بھی مجھے کچھ نہیں کہا جائے گا۔آپ نے فرمایا اُس نے ٹھیک کہا ہے۔یہ بھی میں نے اُسے کہا تھا۔یہ بات سنتے ہی اُس کی آنکھیں کھل گئیں اور کہنے لگا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا