انوارالعلوم (جلد 26) — Page 312
انوار العلوم جلد 26 312 سیر روحانی (11) کر بھاگ گئے۔یہ پہلی چوری تھی جو ان سے سرزد ہوئی کہ جتنی کتابیں لائبریری کی اُن کے پاس رہتی تھیں تا کہ قرآن کریم کے ترجمہ میں ان سے مدد لے سکیں وہ ساری لے کر بھاگ گئے۔قاضی امیر حسین صاحب میرے پاس آئے۔وہ میرے استاد بھی تھے اور حضرت خلیفہ اول کے بہت دوست تھے۔کہنے لگے احمدیوں میں بڑا جوش ہے آپ مجھے جانے کی اجازت دیں۔میں نہر پر سے اُن سے کتابیں چھین کر لے آتا ہوں۔میں نے کہا قاضی صاحب ! اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اگر ایک شخص دین کو چھوڑ کر چلا گیا ہے تو اُس نے تو اتنی بڑی چیز چھوڑی ہے اس کے مقابلہ میں اگر ایک دو ہزار کی کتابیں ہم نے کھو بھی دیں تو کیا نقصان ہوا۔اُس نے تو دیارِ محبوب چھوڑا ہے، جماعت چھوڑی ہے، ہم نے صرف چند کتابیں چھوڑی ہیں اس لئے آپ نہ جائیں۔انہیں یہ بات ناگوار معلوم ہوئی اور چونکہ وہ میرے استاد تھے کہنے لگے میاں! آپ کو سلسلہ کے مال کا درد نہیں ؟ میں نے کہا آپ کو سلسلہ کی عزت کا درد نہیں ؟ اچھا بہر حال میں ہی ہوں۔اس طرح یہ تیسرا موقع تھا جس میں خدا تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مجھ سے کام لینا چاہتا ہے۔اور جو شخص بھی میرے مقابلہ میں کھڑا ہو اللہ تعالیٰ اُس کو ذلیل اور نا کام رکھنا چاہتا ہے اور خود اس کے ہاتھ سے ہی ذلت کے سامان کر دیتا ہے۔دیکھو! اگر مولوی محمد علی صاحب اُس وقت مان جاتے اور میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیتا کہ ساری جماعت مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کرلے تو یقیناً اُس وقت لوگوں کے دلوں کی ایسی درد ناک حالت تھی اور دل اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ میری بات کا انکار نہ کرتے۔پھر انہیں مجھ سے محبت بھی تھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فوت ہوئے ابھی تھوڑے ہی سال ہوئے تھے۔پس اس محبت کی وجہ سے اور ادھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کی وجہ سے دل بہت ڈرے ہوئے تھے۔دوسرے میرے ساتھ جماعت کی محبت کی ایک نئی وجہ یہ بھی پیدا ہو گئی تھی کہ 1912 ء میں میں حج کر کے واپس آیا تو اگلے سال یعنی 1913ء میں میں نے ”الفضل“ جاری کیا۔یہ اخبار بھی بڑا مقبول ہوا اور اس کی وجہ سے بھی لوگوں کو میرے ساتھ خاص محبت تھی۔اور کچھ اس وجہ سے بھی اسے مقبولیت ہوئی