انوارالعلوم (جلد 26) — Page 311
انوار العلوم جلد 26 311 سیر روحانی (11) کیا تھا لیکن اُس وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں بھی تقریر کرنا چاہتا ہوں۔پہلے میری بات بھی سن لیجئے۔مگر تمام احمدیوں نے شور مچا دیا کہ ہم نہیں سننا چاہتے بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ۔اور اتنا شور مچا کہ مولوی محمد علی صاحب نے سمجھا کہ شاید یہ لوگ مجھے ماریں گے اور وہ ڈرکر بیٹھ گئے۔غرض جماعت نے میری بیعت کر لی۔اس کے بعد انہوں نے لاہور میں جا کر شورش شروع کر دی اور ایسے ایسے جھوٹ بولے کہ جن کا خیال کر کے بھی شرم آتی ہے۔مثلاً میں ایک دفعہ بڑی مسجد میں جہاں حضرت خلیفہ اول درس دیا کرتے تھے قرآن کریم کا درس دے رہا تھا کہ یہ بھی اِس طرف سے کسی کام کے لئے گزرے اور بعد میں کہہ دیا کہ مجھے پتا لگ گیا ہے کہ میرا اب قادیان میں رہنا ناممکن ہے کیونکہ مجھے لڑکوں نے پتھر مارے اور مجھے ذلیل کر کے میری کوٹھی تک دباتے آئے۔میں نے کہا مجھے نام بتائیے میں ابھی اُن لڑکوں کو بلواتا ہوں اور انہیں سزا دیتا ہوں۔پھر میں نے اپنے طور پر لڑکوں کو تحقیق کے لئے بلوایا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کوئی پتھر نہیں مارے۔پھر میں نے مولوی محمد علی صاحب سے پوچھا کہ لڑکے تو انکار کرتے ہیں۔وہ کہنے لگے انہوں نے پتھر نہیں مارے تھے بلکہ ایک لڑکے کو میں نے یہ کہتے سنا تھا کہ آؤ مولوی محمد علی صاحب کو روڑا ماریں۔گویا بات صرف اتنی تھی مگر اس کے لئے بھی میں خود اُن کے مکان پر چل کر گیا اور میں نے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ لڑکوں کی طرف سے معذرت کروں اور آپ سے خود واقعہ سنوں کہ بات کیا ہوئی ہے۔اُس وقت انہوں نے مجھے یہ بات بتائی مگر میری معذرت سننے کے بعد بھی کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب میرا قادیان میں رہنا مناسب نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کا یہ دیار محبوب ہے اس کو نہ چھوڑیں اور جس قسم کی حفاظت آپ کہتے ہیں اس قسم کی حفاظت کا میں ذمہ دار ہوں۔یا جس قسم کا اعلان آپ چاہتے ہوں اُس قسم کا اعلان میں جماعت کے سامنے کرنے کے لئے تیار ہوں مگر آپ قادیان کو نہ چھوڑیں۔کیونکہ قادیان آپ کے اور ہمارے محبوب کا دیار ہے۔اس پر پہلے تو وہ کہنے لگے کہ بہت اچھا میں نہیں جاؤں گا۔مگر چوتھے دن پتا لگا کہ نہ صرف آپ گئے بلکہ ہماری لائبریری کی کتابیں بھی لے