انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 201

انوار العلوم جلد 26 201 مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب تھوڑا تھوڑا چندہ دینا شروع کر دیا مگر پھر اخلاص میں اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے بہت زیادہ قربانی شروع کر دی۔اب تو وہ پینشنز ہیں اور ان کا چندہ تھوڑا ہو گیا ہو گا مگر جب وہ ملازم تھے تو دو ہزار روپیہ با قاعدہ تحریک جدید کا چندہ دیتے تھے۔میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو مجھے معلوم ہوا کہ چندہ دینے میں وہ میرے بعد دوسرے نمبر پر تھے حالانکہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب بھی بڑی قربانی کرنے والے ہیں۔تو شروع میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تھوڑے سے چندہ پر کفایت کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کے دل میں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت کرنی ہے اس لئے وہ اپنی قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع میں صرف اتنا کہا تھا کہ سال میں ایک پیسہ دے دیا کرو مگر اب دیکھ لو سال میں ایک پیسہ دینے والے اپنی ماہوار آمد پر فی روپیہ ایک آنہ سے ڈیڑھ آنہ تک چندہ دیتے ہیں۔ایک پیسہ کے حساب سے ہمارا چندہ پندرہ سولہ ہزار بنتا ہے لیکن چندہ چودہ پندرہ لاکھ روپیہ آتا ہے تو قربانی کی جو نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابتدا میں تجویز فرمائی تھی اس میں اب کئی گنا ترقی ہو گئی ہے یہ تمام برکت عمل کی ہے۔جب انسان عملِ صالح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نیکیوں میں اور زیادہ قدم بڑھانے کی توفیق دے دیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ 1 که عملِ صالح انسان کو اونچا کرتا چلا جاتا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک قدم چلتا ہے تو دوسرا قدم اٹھانے کے لئے فرشتے اسے آپ دھنگا دے دیتے ہیں۔حضرت معاویہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ صبح کی نماز کے لئے نہ اٹھ سکے اور ان کی نماز با جماعت رہ گئی۔اس کا انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ سارا دن روتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا کہ میرے اس بندے کو نماز رہ جانے کا بڑا افسوس ہوا ہے اسے سو نماز با جماعت کا ثواب دے دو۔دوسرے دن صبح کے وقت انہوں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص انہیں جگا رہا ہے وہ اسے دیکھ کر ڈر گئے کیونکہ وہ بادشاہ تھے اور باہر پہرہ