انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 199

انوار العلوم جلد 26 199 مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس خدام الاحمدیہ کراچی سے خطاب (فرمودہ 24 فروری 1957ء بمقام دار الصدر‘ ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔: جو رپورٹ اِس وقت قائد صاحب نے پڑھی ہے اس میں انہوں نے نو جوانوں کی اصلاح کے جو ذرائع اور طریق بیان کئے ہیں میرے نزدیک مرکز کو چاہیے کہ وہ ان سے دوسری مجالس کو بھی آگاہ کرے۔بہت سی مجالس ایسی ہوتی ہیں جو حیران ہوتی ہیں کہ ہم اصلاح کے کیا طریق اختیار کریں۔ان کو یہ بتانا کہ ہم نو جوانوں کی اصلاح کے لئے کیا کیا ذرائع اختیار کر سکتے ہیں ایک مفید بات ہے۔انہوں نے جو طریق اس وقت بیان کئے ہیں وہ سب کے سب مفید ہیں لیکن اس کے علاوہ انہیں ایک اور طریق بھی اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم کمزور خدام کو دعاؤں کی تحریک کرتے رہتے ہیں یہ بھی اچھا ہے مگر میرے نزدیک انہیں کمزور خدام کی اصلاح کے لئے ایک یہ طریق بھی اختیار کرنا چاہیے کہ چند جو شیلے خدام مل کر اُن کے گھروں پر جائیں اور انہیں کہیں کہ آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ ہم میں جو کمزور ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو کمز ور اس دعا میں ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا وہ اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے گا۔پس ہمیشہ کمزوروں کے گھروں پر جاؤ اور ان کو کہو کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اس طرح آہستہ آہستہ خود اُن کو اپنا نفس نصیحت کرنا شروع کر دے گا۔پھر جب آپ لوگ ان ہی کمز ور خدام سے کہیں گے کہ آداب ہمارے ساتھ مل کر دوسرے خدام کے گھروں پر چلو تا کہ ہم ان کے لئے بھی دعا کریں تو سب سے پہلے ان کو بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور اس طرح کام پہلے سے بہتر ہو جائے گا۔