انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 155

انوار العلوم جلد 26 155 سیر روحانی (10) کیوں نہیں؟ وہ کہنے لگے غلطی سے سب مادہ درخت لگ گئے ہیں نر کوئی نہیں لگا اس لئے ہوا نر درخت میں سے نطفہ لا کر مادہ پر نہیں گراتی اور اس وجہ سے پھل نہیں لگتا۔اب ہم نر درخت لگا ئیں گے تو پھر پھل لگے گا۔غرض آب سائنٹیفک تحقیق سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پپیتا میں بھی نرومادہ ہے بلکہ بہت سی سبزیوں اور ترکاریوں میں بھی وہ نر و مادہ کے قائل ہو گئے ہیں بلکہ بعض سائنس دان تو تحقیق میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ دھاتوں میں بھی نرو مادہ کے قائل ہو گئے ہیں۔ایک سائنس دان کی کتاب میں نے پڑھی ، اُس میں لکھا تھا کہ ٹین 4 بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ٹین کر ہوتا ہے اور ایک مادہ ہوتا ہے اور یہ بھی ایک دوسرے پر اثر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر کو قبول کر کے ایک نئی شکل بدل لیتے ہیں۔مگر سائنس دان تو یہ کہتے ہیں کہ نباتات میں نر و مادہ ہوتا ہے اور دھاتوں میں بھی نرومادہ ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ اس سے بھی اوپر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہم نے ہر چیز میں جوڑ ا بنایا ہے اور چیز کے لفظ کے نیچے سب نباتات بھی آجاتی ہے، جمادات بھی آجاتی ہے، حیوانات بھی آجاتے ہیں۔بلکہ اِس سے بڑھ کر ذرات عالم اور مجموعہ ء ذرّات عالم بھی آجاتے ہیں۔چنا نچہ دیکھ لو! جہاں بہت سے مذاہب اور فلسفیوں دنیا کی زندگی بھی ایک جوڑا ہے نے صرف اس دنیا کی زندگی کو ایک حقیقت قرار دیا ہے اسلام نے مذکورہ بالا اصل کے مطابق دو جہان قرار دیئے ہیں یعنی جہانوں میں بھی جوڑا بتایا ہے۔ایک یہ دنیا ہے اور ایک اگلا جہان ہے، یہ بھی جوڑا ہے۔ساری بائبل پڑھ کے دیکھ جاؤ صرف کہیں کہیں اشارے نظر آئیں گے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ہے لیکن واضح طور پر حیات بغد الموت کا بائبل میں کوئی ذکر نہیں۔حضرت مسیح نے بھی ایک مُردہ سا اشارہ بائبل سے نکالا کہ اس میں مرنے کے بعد کی زندگی کا ذکر ہے۔مگر قرآن کو پڑھ جاؤ ہر جگہ اگلے جہان کا ذکر نظر آئے گا۔میں نے کئی یورپین لوگوں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ قرآن پڑھ کر متلی ہونے لگ جاتی ہے، ہر جگہ اگلے جہان کا ہی ذکر ہے۔حالانکہ اگلے جہان کا ذکر قرآن اس لئے کرتا ہے کہ قرآن دعویدار ہے کہ ہم نے ہر چیز کو