انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 64

انوار العلوم جلد 26 64 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت اور بغض اور لالچ کا۔درمیان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے یہ حربہ زیادہ کامیاب نہ ہوا مگر حضرت علیؓ کے زمانہ میں یہ حربہ پھر زور پکڑ گیا اور آج تک شیعہ سنی کی شکل میں یہ جھگڑا چل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پھر شیطان نے ایک اور رنگ میں اس کی بنیاد زمانہ میں شیطانی حربہ کی صورت رکھی۔آپ کی خلافت میں پہلا جھگڑا جو زیادہ شدت سے ظاہر نہیں ہوا حضرت خلیفہ اول کے خلیفہ بننے کے وقت ہوا۔یہ جھگڑا بھی درحقیقت وہی ابلیس والے جھگڑے کی طرز پر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک انجمن مقبرہ بہشتی کی بنائی تھی اور اس میں حضرت خلیفہ اول کو صدر بنایا تھا۔اور مولوی محمد علی صاحب اس کے سیکرٹری تھے۔دوسرے ممبروں میں سے خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ تھے۔چھوٹے چھوٹے معاملات میں اختلاف ہوتا تو حضرت خلیفہ اول کی رائے ایک طرف ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کی رائے دوسری طرف ہوتی۔اس لئے مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی میں حضرت خلیفہ اول کے خلاف بغض پیدا ہو جاتا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو اُس وقت کے حالات کی وجہ سے خواجہ کمال الدین صاحب بہت ڈر گئے اور لاہور میں جہاں وفات ہوئی تھی مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اول کی خلافت کا اعلان کر دیا اور خواجہ صاحب نے ڈر کر مان لیا۔جب قادیان پہنچے تو خواجہ صاحب نے سوچا کہ حضرت خلیفہ اول ضرور خلیفہ نہیں گے اور اپنی ہوشیاری کی وجہ سے خیال کیا کہ اگر ان کی خلافت کا مسئلہ ہماری طرف سے پیش ہو تو ان پر ہمارا اثر رہے گا اور وہ ہماری بات مانتے رہیں گے۔چنانچہ انہوں نے آپ کی خلافت کے متعلق ایک اعلان شائع کیا اور اس میں لکھا کہ الوصیۃ کے مطابق ایک خلیفہ ہونا چاہئے اور ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مستحق اس کے حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں۔اس اعلان کے الفاظ یہ ہیں:۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے