انوارالعلوم (جلد 26) — Page 46
انوار العلوم جلد 26 46 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت اس موقع پر دوستوں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب انہیں دکھلا دیے جائیں۔چنانچہ پر وفیسر صاحب سٹیج پر تشریف لے آئے اور حضور نے فرمایا: یہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب ہیں جو جرمنی سے آپ لوگوں کو دیکھنے آئے ہیں اور آپ ان کو دیکھنے آئے ہیں۔دوسری خوشخبری یہ ہے کہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ جرمنی میں چار شہروں میں جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔ایک بیعت پیچھے لفضل میں شائع ہوئی ہے۔تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ اس نو مسلم کی بیوی نے بھی بیعت کرلی ہے۔سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ پیغامیوں نے منافقین کو کہا تھا کہ ہمارا سٹیج تمہارے لئے ہے، ہماری تنظیم تمہارے لئے ہے۔آج ہی جس وقت میں چلنے لگا ہوں تو مولوی عبد اللطیف صاحب کی پچٹھی پہنچی کہ ایک جرمن جو پیغامیوں کے ذریعہ سے مسلمان ہو ا تھا وہ میرے پاس آیا اور میں نے اس کو تبلیغ کی اور وہ بیعت کا خط آپ کو بھجوا رہا ہے۔تو اُن کی وہ تنظیم خدا نے ہمیں دے دی۔جس طرح ابو جہل کا بیٹا عکرمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گیا تھا اسی طرح پیغامیوں کا کیا ہوا نو مسلم ہمیں مل چکا ہے۔آج ہی اس کی بیعت کا خط آ گیا ہے۔وکالت تبشیر نے کہا ہے کہ باہر سے متواتر لٹریچر کی مانگ آ رہی ہے۔میں نے عزیزم دا ؤ داحمد کو جسے انگریزی کا اچھا شوق ہے ولایت میں کچھ عرصہ پڑھنے کے لئے رکھا تھا اور وہ انگریزی پڑھ کے آیا ہے۔میں نے تحریک کو کہا کہ اس کو ترجمہ پر لگا دو تو انہوں نے کہا ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔گویا اُدھر تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے لئے ہمیں لٹریچر چاہیے اور ادھر وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس گنجائش نہیں یہ کیا؟ تم فاقے رہ جاتے اور لٹریچر شائع کرتے۔یہ وکالت والوں کی غلطی ہے وہ بجٹ کو صحیح طور پر تقسیم نہیں کرتے۔اگر صحیح طور پر تقسیم کریں تو ہمارے پاس بڑی گنجائش ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ساری دنیا کولٹریچر سے بھر سکتے ہیں۔تازہ رپورٹ سے پتا لگتا ہے کہ پیغامی جو کچھ یہاں کرتے رہے ہیں وہ دوسرے ملکوں میں بھی انہوں نے کرنا شروع کر دیا ہے۔رشید ہمارا مبلغ ڈچ گی آنا میں گیا۔وہاں بھی پیغامیوں کا زور تھا۔پہلے اطلاع آئی تھی کہ دوسو پیغامیوں نے بیعت کر لی ہے اور وہ احمدی ہو گئے ہیں۔اب