انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 29

انوار العلوم جلد 26 29 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔اس باسی کڑھی میں پھر اُبال آیا اور وہ بھی لگے مولوی عبد المنان اور عبدالوہاب کی تائید میں مضمون لکھنے۔اور ان میں سے ایک شخص محمد حسن چیمہ نے بھی ایک مضمون شائع کیا ہے کہ ہمارا نظام اور ہمارا سٹیج اور ہماری جماعت تمہاری مدد کے لئے تیار ہے۔شاباش ! ہمت کر کے کھڑے رہو۔مرزا محمود سے دینا نہیں۔اس کی خلافت کے پردے چاک کر کے رکھ دو۔ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔کوئی اس سے پوچھے کہ تم نے مولوی محمد علی صاحب کو کیا مدد دے لی تھی ؟ آخر مولوی محمد علی صاحب بھی تو تمہارے لیڈر تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب بھی لیڈر تھے اُن کی تم نے کیا مدد کر لی تھی جو آج عبدالمنان اور عبد الوہاب کی کرلو گے۔پس یہ باتیں محض ڈھکوسلے ہیں۔ان سے صرف ہم کو ہوشیار کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مطمئن نہ ہو جانا اور یہ نہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ چونکہ خلافت قائم کیا کرتا ہے اس لئے کوئی ڈر کی بات نہیں ہے۔تمہارے زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہو رہے ہیں اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہوئے تھے۔اس لئے خلافت کو ایسی طرز پر چلا ؤ جو زیادہ آسان ہو۔اور کوئی ایک دو لفنگے اُٹھ کر اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کر کے یہ نہ کہہ دیں کہ چلو خلیفہ مقرر ہو گیا ہے۔پس اسلامی طریق پر جو کہ میں آگے بیان کروں گا آئندہ خلافت کے لئے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوری انتخاب کرے۔بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب بھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اور ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد اور اب نظر ثانی کرتے وقت میں یہ بات بھی بعض دوستوں کے مشورہ سے زائد کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ بھی جن کو فوراً بعد تحقیقات صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ صحابیت کا سرٹیفکیٹ دے دے اور جامعۃ المبشرین کے پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعتہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امر بھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہے ہوں گوانتخاب کے وقت بوجہ معذوری کے امیر نہ رہے ہوں وہ بھی اس